بھارت

صرف سبزیوں پر مشتمل برکس عشائیے نے بھارت کی ہندوتوا سفارت کاری پر نئی بحث چھیڑ دی

نئی دہلی: نئی دہلی میںبرکس سربراہی اجلاس کے دوران غیر ملکی رہنمائوں اور مندوبین کو جو عشائیہ دیاگیااس میں صرف سبزیوں کے پکوان پیش کئے گئے جس نے سفارتی حلقوں میں مودی حکومت کی سیاست پر ہندوتوا کے بڑھتے ہوئے اثرات کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے کے روز بھارت منڈپم میں برکس رہنمائوں اور مندوبین کے اعزاز میں عشائیے کی میزبانی کی جس کے مینو میں گوشت سے تیار کردہ کوئی بھی پکوان شامل نہیں تھا۔ عشائیے میں بھارت کی مختلف سبزیوں کے پکوان پیش کیے گئے، جن میں کھنڈوی ملٹ، مشروم کباب، پنیر لبابدار، ہمالیائی مورل مشروم، اسپیرگس، ملت پلاو، چقندر کا رائتہ اور مختلف اقسام کی بھارتی روٹیاں شامل تھیں۔ اس کے بعد جلیبی اور شہتوت کی فیرنی جیسے میٹھے پیش کیے گئے۔اگلے روز اس مینو نے اس وقت شدید سیاسی توجہ حاصل کی جب کانگریس رہنما راہول گاندھی نے بھارت کے غذائی تنوع کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 80فیصد بھارتی گوشت خور ہیں، انہوں نے بھارتی کھانوں کی وسیع اقسام کو اجاگر کیا۔یہ تنازعہ اس لیے بھی زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ بھارت خوراک، مذہب اور ثقافتی روایات کے حوالے سے ایک انتہائی متنوع معاشرہ ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک اعلی سطحی بین الاقوامی اجتماع میں مکمل طور پر سبزیوں پر مشتمل مینو مسلط کرنا غیر ملکی مہمانوں کے غذائی انتخاب میں غیر ضروری مداخلت کے مترادف ہے کیونکہ ہندوتوا سیاست سے وابستہ ثقافتی ترجیحات کو کثیر ملکی سفارتی پلیٹ فارم پر پیش کیاگیا۔ناقدین کے مطابق یہ صورتحال خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کیونکہ بھارت دنیا کے بڑے گوشت برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے جس میں گائے کا گوشت بھی شامل ہے، جبکہ مودی حکومت کے دور میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو گائے ذبح کرنے یا گائے کا گوشت کھانے کے الزامات پر تشدد اور دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے 2015سے 2018کے درمیان گائے سے متعلق تشدد کے واقعات میں درجنوں ہلاکتوں کو دستاویزی شکل دی ہے جن میں ہلاک ہونے والوں کی بھاری اکثریت مسلمان تھی۔ناقدین کا کہنا ہے کہ برکس عشائیہ نئی دہلی کی جانب سے بھارت کو ایک تکثیری جمہوریت کے طور پر پیش کرنے اور سرکاری و عوامی زندگی میں ہندوتوا سے منسلک ثقافتی ترجیحات کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کی علامت بن گیا ہے۔ان کے مطابق برکس برادری کے سامنے بھارت کے تنوع کی عکاسی کرنے کے بجائے مکمل طور پر سبزیوں پر مشتمل مینو کا انتخاب سفارتی مہمان نوازی کو اکثریتی ثقافتی سیاست کے اظہار میں تبدیل کرسکتاہے۔ اس سے یہ سوال بھی پیداہوتاہے کہ کیا بین الاقوامی پلیٹ فارمز کو مودی حکومت کے نظریاتی نقط نظر کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔یہ تنازعہ سربراہی اجلاس میں مودی کی جانب سے ٹیکنالوجی کے فروغ میں شمولیت اور برکس ممالک کے درمیان مضبوط تعاون اور لچک پیدا کرنے کی اپیل سے بھی متضاد نظر آتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حقیقی شمولیت محض سفارتی بیانات تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ مختلف ثقافتوں، شناختوں اور ذاتی انتخاب کا احترام بھی اس کا حصہ ہونا چاہیے۔اس واقعے نے بھارت میں ہندوتوا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بحث دوبارہ چھیڑ دی ہے ،نہ صرف ملک کی اقلیتوں کے حوالے سے بلکہ اس حوالے سے بھی کہ بھارت عالمی برادری کے سامنے ملک کی کیسی تصویر پیش کرتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button