بھارت

دہلی ہائیکورٹ کا شرجیل امام کی تحقیقی مواد تک رسائی کی درخواست پرجیل انتظامیہ سے جواب طلب

نئی دہلی:بھارت میں دہلی ہائیکورٹ نے مسلم اسٹوڈنٹس لیڈر اورغیر قانونی طورپر نظربند پی ایچ ڈی اسکالر شرجیل امام کی اپنی تحقیقی سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے جیل میں موجود کمپیوٹر استعمال کرنے کی اجازت کی درخواست پر تہاڑ جیل انتظامیہ اور دہلی پولیس سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شرجیل امام کے وکیل ایڈووکیٹ احمد ابراہیم نے عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل جنوری 2020 سے جیل میں قیدہے اور گرفتاری کے وقت وہ اپنی پی ایچ ڈی کے آخری سال میں تھا۔ شرجیل امام کی تحقیقی سرگرمیاں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی سے منظور شدہ ہے اور انہیں اپنی تحقیق جاری رکھنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
وکیل نے واضح کیا کہ شرجیل امام انٹرنیٹ تک رسائی کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ صرف جیل کے اندر دستیاب کمپیوٹر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ عدالت کے اس سوال پر کہ تحقیقی مواد کی طباعتی نقول کیوں فراہم نہیں کی جاسکتیں، وکیل نے بتایا کہ مواد کی تعداد لاکھوں صفحات تک پہنچ سکتی ہے۔
شرجیل امام نے جنوری 2020میں گرفتاری سے قبل جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں جدید تاریخ کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم شروع کی تھی۔ اپنی درخواست میں انہوں نے وکلا کے ذریعے پین ڈرائیو میں تحقیقی مواد حاصل کرنے اور جیل کے اندر کمپیوٹر استعمال کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ متعلقہ تحقیقی مواد بھارتی حکومت کی جانب سے ممنوع یا محدود قرار نہیں دیا گیا۔
واضح رہے کہ شرجیل امام متنازعہ قانون شہریت کے خلاف فروری 2020 میں نئی دہلی میں پرتشدد مظاہروں سے متعلق مبینہ سازش کے مقدمے میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون (یو اے پی اے)کے تحت قید ہیں ۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button