پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا بنیادی اور مسلمہ حق ہے، عطا اللہ تارڑ
سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل، منسوخ یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل، منسوخ یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا، پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا بنیادی اور مسلمہ حق ہے۔
عطااللہ تارڑ نے انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آبادمیں ”پانی کا بطور ہتھیار استعمال، سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے تاریخی، قانونی و تذویراتی پہلو” کے موضوع پر خصوصی رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سندھ طاس معاہدہ 24کروڑپاکستانیوں کی زندگی اور بقا کا مسئلہ ہے، معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی ہے،بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال نہیں کرنے دیں گے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستانی ہونے پر فخر ہے کہ ہمارا تعلق سندھ طاس کی قدیم تہذیب سے ہے، معاہدہ طے پانے کے بعد اس پر عملدرآمد متعلقہ فریقین کے لئے لازم قرار پاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ معاہدہ محض کاغذی دستاویز نہیں ہے اور بین الاقوامی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جاسکتا۔ عالمی ثالثی عدالت بھی پاکستان کے موقف کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنا موقف سفارتی سطح پر اٹھایا، سندھ طاس معاہدے کو نہ معطل کیا جاسکتا ہے، نہ ہی التوا میں رکھا جا سکتا ہے،سندھ طاس معاہدہ خطے میں امن و استحکام کا ذریعہ ہے، پانی پاکستان کے عوام کی زندگی، زراعت اور معیشت سے براہ راست جڑا ہے، وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں واضح کیا کہ ہمارا پانی روکنا جنگی اقدام تصور ہوگا۔
وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانی دے چکا ہے،پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کر چکا ہے،ہمارا مشرقی ہمسایہ پاکستان پر سرحد پار مداخلت کے بے بنیاد الزامات عائد کرتا ہے،بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کا اعلان کیا گیا،سندھ طاس معاہدے کو معطل یا التوا میں رکھنے کے خلاف عالمی عدالتیں واضح فیصلہ دے چکی ہیں،ہم امن چاہتے ہیں تاہم پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے نہیں دے سکتے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے قومی مفادات کا دفاع جاری رکھے گا۔ سندھ طاس معاہدے کی حیثیت میں یکطرفہ تبدیلی کے وسیع تر اثرات دنیا بھر میں سرحد پار پانیوں کے انتظام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ عالمی برادری کو اس معاملے کی حساسیت کا ادراک کرنا ہوگا۔








