بھارت

بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ

ڈوئچے ویلے کی رپورٹ میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم، سلامتی پر سوالات اٹھادئے

نئی دہلی: بھارت میں خواتین خصوصا طالبات کی عصمت دری کے پے در پے واقعات نے ایک بار پھر خواتین کی سلامتی پر سوالات اٹھا دیے ہیں، جس کے باعث خواتین میں شدید خوف پایا جاتاہے جبکہ ان واقعات کوروکنے کیلئے سخت حفاظتی اقدامات کا مطالبہ زورپکڑ گیاہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق دنیا بھر میں ریپ کیپیٹل کی شہرت رکھنے والے بھارتی دارلحکومت نئی دہلی میں گزشتہ ہفتے ایک 17سالہ لڑکی کو مبینہ اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے بعد دارالحکومت کے پارکوں اور دیگر عوامی مقامات پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔جرمنی کے بین الاقوامی نشریاتی اداے ”ڈوئچے ویلے ”کی رپور ٹ کے مطابق تین افراد نے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرکے لڑکی کو اسلحے کے زور پر آستھا کنج پارک کے ایک سنسان حصے میں لے جا کر اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا۔
طالبات کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد خواتین اور لڑکیوں میں اپنی سلامتی کے حوالے سے خوف اور تشویش بڑھ گئی ہے۔ یونیورسٹی کی طالبہ دیپیکا سنگھ نے کہا کہ خواتین کے خلاف ایسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہ جرائم معمول بنتے جا رہے ہیں۔18سالہ طالبہ انیتا کنور طالبات نے سوال اٹھایا کہ کیاپولیس کے گشت میں اضافے، بہتر روشنی اور سی سی ٹی وی نگرانی کے اقدامات کیا انکے ساتھ پیش آنے والے شرمناک واقعات کی روک تھام ممکن ہے ۔ ڈوئچے ویلے کی ایک رپورٹ کے مطابق واقعے کے خلاف سینکڑوں طلبہ نے، جن میں بڑی تعداد طالبات کی تھی، نئی دہلی کی سڑکوں پر نکل کر خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ڈوئچے ویلے کی رپور ٹ کے مطابق دیگربھارتی ریاستوں میں بھی حالیہ دنوں میں خواتین کے ساتھ مبینہ جنسی تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں بہار کے جموئی اور بیگوسرائے کے واقعات شامل ہیں۔ پنجاب کی لولی پروفیشنل یونیورسٹی میں بھی مبینہ زیادتی کے ایک واقعے کے خلاف احتجاج کے دوران کشیدگی اور پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔بھارتی نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق بھارت میں روزانہ اوسطا 80سے زائد خواتین سے زیادتی کے مقدمات درج ہوتے ہیں، تاہم خواتین کے حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔
ڈوئچے ویلے کی رپور ٹ کے مطابق اگرچہ 2012کے دہلی اجتماعی زیادتی کیس کے بعد بھارت میں جنسی جرائم سے متعلق قوانین سخت کیے گئے اور خصوصی عدالتیں قائم کی گئیں۔ تاہم حقوقِ نسواں کی تنظیموں کاکہنا ہے کہ پولیس کی تفتیشی خامیوں، عدالتی تاخیر اور معاشرتی رویوں کے باعث مسئلہ بدستور موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق خواتین کے تحفظ کے لیے صرف پولیس گشت کافی نہیں بلکہ بہتر شہری منصوبہ بندی، مناسب روشنی، موثر نگرانی اور مقدمات کی فوری و شفاف تفتیش بھی ضروری ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button