بھارت

نئی دلی :جنسی ہراسانی کیخلاف ایف آئی آر کے مطالبے پر خواتین صحافیوں پر پولیس کا تشدد

نئی دہلی:بھارت میں دہلی پولیس نے خواتین صحافیوں سے جنسی زیادتی کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کا مطالبہ کرنے والے کم از کم 18 آزاد صحافیوں اور مظاہرین کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ واقعہ 3اکتوبر کو جنتر منتر کے قریب پیش آیاتھا، جہاں صحافی روزی نے الزام عائد کیا کہ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس وویک بھگت نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کے مطالبے کے حق میں ہونے والے احتجاج کی کوریج کے دوران انہیں نامناسب سلوک کا نشانہ بنایا تھا۔دو دیگر خواتین صحافیوں نے بھی پولیس افسر کے خلاف بدسلوکی کے الزامات عائد کیے ہیں۔
واقعے کے بعد صحافیوں اور کارکنوں نے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے باہر رات بھر دھرنا دیا اور بھارتیہ نیا سنہتا کی دفعہ 173(1) کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔
4 اکتوبر کی صبح پولیس نے مظاہرین کو حراست میں لے لیا اور انہیں پارلیمنٹ اسٹریٹ سے تقریبا 12 کلومیٹر دور دہلی کینٹ پولیس اسٹیشن منتقل کر دیاگیا۔
حراست میں لیے گئے افراد نے الزام عائد کیا کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں گاڑیوں کے اندر شدید تشددکا نشانہ بنایا ، انہیں ٹھوکریں ماریں اور گالم گلوچ کیا۔ ایک خاتون صحافی نے کہا کہ پونم نامی خاتون پولیس اہلکار نے انہیں بالوں سے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔
صحافیوں انوج بھگت، گجیندر سنگھ اور دیگر نے اپنے ہاتھوں اور کمر پر مبینہ تشدد کے نشانات بھی دکھائے۔ ایک صحافی نے الزام لگایا کہ اسے فرقہ وارانہ نوعیت کے توہین آمیز الفاظ کانشانہ بنایاگیا اور گھر جلانے کی دھمکی بھی دی گئی۔
دہلی پولیس نے صحافیوں اور مظاہرین پر تشدد کے الزامات کی تردید کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ موصول ہونے والی شکایات کو تحقیقات کے لیے کرائم برانچ منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس وویک بھگت کے خلاف تاحال ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، جس پر آزاد میڈیا تنظیموں اور صحافتی حلقوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button