مقبوضہ جموں و کشمیر

عالمی قوانین پر مبنی نظام کے تحفظ کے لیے اقوام متحدہ کی اصلاح ضروری ہے: مسعود خان

انتونیو گوتریس فلسطین اور جموں و کشمیر کے مسائل پر مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں

اسلام آباد : امریکہ، چین اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ عالمی قوانین پر مبنی بین الاقوامی نظام کے تحفظ اور طاقتور کی مرضی کو قانون بننے سے روکنے کے لیے اقوام متحدہ کو مضبوط اور فعال بنانا ضروری ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے مسعود خان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے دور ہ پاکستان کی اہمیت کواجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ علامتی اور عملی دونوں اعتبار سے اہمیت رکھتا ہے، خصوصا ایسے وقت میں جب سیکریٹری جنرل کی مدتِ عہدہ اختتام کے قریب ہے اور عالمی نظام متعدد بحرانوں کا شکار ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں اور مشرق وسطی میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سیکریٹری جنرل کی پاکستان سے بات چیت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے بھارت و پاکستان کے ہیڈکوارٹر کا سیکریٹری جنرل کا دورہ اس بات کی اہمیت اجاگر کرتا ہے کہ مسئلہ جموں و کشمیر اب بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ انہوں نے قدرتی آفات سے نمٹنے اور تیاری کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعاون کا ذکر کرتے ہوئے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) کے دورے کو بھی اہم قرار دیا۔ مسعود خان نے کہا کہ بات چیت میں طرز حکمرانی کے اہم عالمی چیلنجز بشمول مصنوعی ذہانت، تکنیکی خودمختاری اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اقدامات بھی شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیکریٹری جنرل نے ایسے دور میں اقوام متحدہ کی قیادت کی ہے جب دنیا غیر معمولی عالمی بحرانوں سے دوچار رہی، جبکہ انہیں ادارہ جاتی اور سیاسی سطح پر بھی نمایاں رکاوٹوں کا سامنا رہا۔سیکریٹری جنرل کی مدتِ عہدہ کا جائزہ لیتے ہوئے مسعود خان نے انتونیو گوتریس کو متحرک اور عملی اقدامات پر یقین رکھنے والا رہنما قرار دیا جو ماحولیاتی اقدامات، پائیدار ترقی، غزہ، فلسطین اور جموں و کشمیر کے مسائل پر مسلسل آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جغرافیائی و سیاسی تقسیم اور سلامتی کونسل میں ویٹو کے اختیار نے سیکریٹری جنرل کی آواز کو فیصلہ کن عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت محدود کردی۔
مشرق وسطی میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے سفیر مسعود خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت متوقع کردار ادا کرنے میں عالمی ادارے کی ناکامی کے باعث انفرادی ممالک اور علاقائی قوتوں کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی طاقتوں اور چین کی حمایت اور بعد ازاں عالمی برادری کے دیگر ارکان کی تائید سے پاکستان کی سفارتی کوششیں ملک کے لیے ایک اہم موقع ہیں، تاہم یہ کثیرالجہتی نظام کو درپیش مشکلات کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیکریٹری جنرل کا یو این ایم او جی آئی پی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ واضح پیغام ہے کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے اور اسے اقوام متحدہ کے ایجنڈے سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قیادت کے ساتھ بات چیت میں افغان سرزمین سے دہشت گردی اور سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنے تحفظات بھی دہرائے گا۔سفیر مسعود خان نے کہاکہ صرف آواز بلند کرنا عملی اقدام کا متبادل نہیں ہے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ موثر آواز اور اخلاقی حمایت کی اپنی اہمیت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ جنگِ عظیم دوم کے بعد قائم ہونے والے کثیرالجہتی نظام کی ادارہ جاتی بنیاد ہے اور خبردار کیا کہ اس کی کمزوری احتساب، بین الاقوامی قانون اور اقوام کے حقوق کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button