بھارت

پیرس :ہندو انتہاپسندی کے اثرات فرانس کی گلیوں تک پہنچنے پراظہار تشویش

پیرس:ہندو انتہاپسندی کے اثرات اب برصغیر تک محدود نہیں رہے بلکہ فرانس کی گلیوں تک پہنچ رہے ہیں جس سے آزادی، مساوات اور اخوت پر مبنی جمہوری اقدار کے متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پیرس میں انڈین الائنس پیرس نے جنرل کنفیڈریشن آف لیبر ،ایسوسی ایشن فار دی ٹیکسیشن آف فنانشل ٹرانزیکشنز اینڈ سٹیزن ایکشن اور اے سی ٹی آئی ٹی کے اشتراک سے ہندو انتہاپسندی کے فروغ کے موضوع پر ایک اجلاس منعقد کیا جس میں اس حوالے سے خبردار کیا گیا۔اجلاس میں بھارتی، پاکستانی، بنگلہ دیشی، سری لنکن اور تامل برادریوں سے تعلق رکھنے والے تقریبا 50افراد نے شرکت کی۔
مقررین نے کہا کہ راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (RSS)کا تشکیل شدہ اورنریندر مودی کا اختیارکردہ ہندوتوا نظریہ بھارت میںریاستی نظریے کے طور پر نافذ کیا جارہا ہے اور تارکین وطن کے نیٹ ورکس اور انتہاپسند تنظیموں کے ذریعے بیرون ملک پھیلایاجا رہا ہے۔ ان کے مطابق انتہائی دائیں بازو کی ہندو قوتیں بین الاقوامی سطح پر رابطہ کاری کر رہی ہیں اور یورپ میں آر ایس ایس سے منسلک اثر و رسوخ کو آمرانہ قوم پرستی اور تارکین وطن مخالف نسل پرستی کے ساتھ جوڑ رہی ہیں۔مقررین نے کہا کہ اجلاس کا وقت بھی سوچ سمجھ کر مقرر کیا گیا ہے اور یہ پیرس کے قریب بی اے پی ایس سوامی نارائن ہندو مندر کے افتتاح کے موقع پر منعقد ہوا۔ ان کے بقول یہ محض ثقافتی سرگرمی نہیں بلکہ نظریاتی اثر و رسوخ کو وسعت دینے کی کوشش ہے۔
شرکاء نے اسی روز پیش آنے والے ایک واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مندر کی تقریبات سے منسلک ایک ہندو مذہبی وفد نے ایفل ٹاور کا دورہ کیا جہاں مبینہ طور پر خواتین ملازمین کو ان کی ڈیوٹی سے ہٹا کر مرد اہلکار تعینات کیے گئے تاکہ وفد کا خواتین سے کوئی رابطہ نہ ہو۔مقررین کے مطابق اس واقعے پر ایفل ٹاور کے کارکنوں نے احتجاجا ہڑتال کی جس کے باعث یادگار کو بند کرنا پڑا۔
مقررین نے اسے فرانس کی سرزمین پر مسلط کی جانے والی درآمد شدہ ہندو مذہبی قدامت پسندی کا عملی مظہر قرار دیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ سماجی سطح پر بھارتی تارکین وطن کو ہندوتوا کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے معاشرے میں تقسیم، درجہ بندی پر مبنی اور امتیازی اقدار کو معمول بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔اجلاس میں خبردار کیا گیا کہ ہندوتوا بھارت کی سرحدوں پر نہیں رکتا بلکہ پیرس اور یورپ تک پہنچ چکا ہے۔ شرکا نے جمہوری اقدار کو مزید کمزور ہونے سے بچانے کے لیے مزدور تنظیموں اور سول سوسائٹی کی مشترکہ مزاحمت پر زور دیا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button