بھارت :مسلمانوں کو پینے کے پانی سے محروم رکھنے پر اقوامِ متحدہ سے مداخلت کا مطالبہ
تقریباً 5 ہزار افراد پر مشتمل مسلم آبادی کو دو ماہ سے پینے کے پانی سے محروم رکھاگیا ہے
نئی دہلی :بھارت میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رکنِ پارلیمنٹ سمیر الاسلام نے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی بنگال کے شہر کولکتہ کی جیوتی نگر کالونی میں مقیم ہزاروں مسلمانوں کو درپیش سنگین انسانی بحران کا نوٹس لیتے ہوئے مداخلت کریں جنہیں تقریباً دو ماہ سے پینے کے پانی سے محروم رکھا گیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سمیر الاسلام نے 8 اکتوبر کو اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے نام ایک خط میں بتایا کہ کولکتہ کے علاقے بیلگاچھیا میں واقع جیوتی نگر کالونی کے تقریباً 5 ہزار رہائشیوں کو لگ بھگ دو ماہ سے حکومت کی جانب سے پینے کے پانی کی باقاعدہ فراہمی منقطع کی گئی ہے۔خط میں کہا گیا کہ 2026 کے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد پانی کی فراہمی منقطع کر دی گئی اور اسے بحال نہیں کیا گیا۔ سمیر الاسلام نے کہاکہ پانی کی فراہمی منقطع کرنا مذہب اور ووٹ ڈالنے کے رجحان کی بنیاد پر دانستہ امتیازی سلوک کا اقدام ہے۔
سمیر الاسلام نے خط میں لکھاکہ پینے کے پانی کی فراہمی بند کرنے کی وجہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ریاست میں حال ہی میں اقتدار میں آنے والے بی جے پی رہنماو¿ں نے پانی کی فراہمی اس لیے منقطع کر دی کیونکہ ان کے خیال میں یہ لوگ مسلمان ہیں اور انہوں نے بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا، اس لیے انہیں پینے کا پانی حاصل کرنے کا کوئی حق نہیں۔مسلم رکنِ پارلیمنٹ نے مسلمانوںکو درپیش شدید مشکلات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک یا دو تنظیموں نے علاقے سے باہر سے پانی کے ٹینکرز کا انتظام کرنے کی کوشش کی، لیکن متبادل ذرائع سے فراہم کیا جانے والا پانی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
خط میں کہا گیا کہ بچوں، بزرگوں اور پورے خاندانوں کو اپنی روزمرہ کی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے محدود اور عارضی انتظامات پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ سمیر الاسلام نے خبردار کیا کہ پانی کا یہ بحران برقرار رہنے سے ہزاروں افراد کی صحت متاثر ہو سکتی ہے اور بڑے پیمانے پر بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی ضوابط کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ صاف اور محفوظ پینے کے پانی تک رسائی ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ انہوں نے اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق سے متعلق اقوامِ متحدہ کی کمیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر شخص کو ذاتی اور گھریلو استعمال کے لیے کافی مقدار میں محفوظ، جسمانی طور پر قابلِ رسائی اور استطاعت کے مطابق پانی کی فراہمی کا حق حاصل ہے۔خط میں کہا گیاکہ رہائشیوں نے کسی خصوصی رعایت یا اضافی فائدے کا مطالبہ نہیں کیا۔ وہ صرف ایسی چیز تک رسائی مانگ رہے ہیں جو ان کی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔
سمیر الاسلام کے مطابق مقامی انتظامیہ سے بار بار اپیلیں کرنے کے باوجود اب تک کوئی مستقل حل نہیں نکالا گیا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ سے باضابطہ درخواست کی کہ وہ متعلقہ حکام سے طویل عرصے سے جاری اس ناکامی کی وجوہات، فوری طور پر کیے جانے والے اقدامات، پانی کا مستقل کنکشن بحال کرنے اور متاثرہ رہائشیوں کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں معلومات طلب کرے۔ رکنِ پارلیمنٹ نے کہاکہ پینے کا پانی کوئی احسان نہیں، نہ ہی یہ خیرات ہے۔ یہ بقا کے لیے بنیادی ضرورت اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ انسانی حق ہے۔









