دہلی : ریاستی جبر میں کشمیر کی طویل داستان کی جھلک
احتجاجیوں کے لئے کشمیر کادرد محسوس کرنے کا مقام
تحریر: ارشد میر
دنیا کی خودساختہ مہان جمہوریہ کے دارالحکومت دہلی میں احتجاجی مظاہرین کے خلاففورسز کی بھاری تعیناتی، راستوں کی بندش، گرفتاریوں، تشدد اور سیاسی آوازوں کو محدود کرنے کے واقعات نے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا جمہوریت صرف انتخابات کا نام ہے یا اس کا اصل معیار اختلافِ رائے، پُرامن احتجاج اور شہری آزادیوں کا احترام بھی ہے؟ نئی دہلی میں انتخابی فہرستوں سے 9 کروڑ لوگوں کے نام حذف کئے جانے کے سنگین معاملہ کے خلاف چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے گئےجن میں سابق وزرائے اعلیٰ ممتا بینرجی، اروند کیجری وال، پِنارائی وجےین اور مانِک سرکار سمیت 7 ہزارافراد کو حراست میں لے لیا گیا ۔ یہ حالات وواقعات یقینا مہان جمہوریہ کا منہ چڑارہے ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق بھارتی رکنِ پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے دہلی کی صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے یاد دلایا کہ ایسے مناظر کشمیریوں کے لیے اجنبی نہیں۔ ان کا پیغام واضح تھا کہ جو پابندیاں آج بھارت کے دارالحکومت میں شہریوں کو درپیش ہیں، انہیں معمول نہ سمجھا جائے کیونکہ کشمیر میں لوگ طویل عرصے سے ایسی پابندیوں کا سامنا کرتے چلے آرہے ہیں۔ سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی کہا کہ آج کا دہلی، دفعہ 370 کی غیر آئینی منسوخی کے بعد کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتِ حال کی ایک خوف ناک یاد دلاتا ہے۔ لوگوں کو گھروں میں محصور کر دیا گیا تھا، انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا اور پورے خطے کا محاصرہ کر لیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو گھروں تک محدود کرنے، انٹرنیٹ بند کرنے اور احتجاج کے راستے مسدود کرنے کے بعد خاموشی کو رضامندی قرار دینا جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جسے بھارت کے نوجوانوں، اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں، صحافیوں، وکلا اور عام شہریوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ا حتجاج نہ ہو پانا اس بات کا ثبوت نہیں کہ عوام کو شکایت نہیں بلکہ بعض اوقات یہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ اظہارِ اختلاف کے راستے محدود کر دیے گئے ہیں۔
دہلی میں اگر احتجاج روکنے کے لیے سڑکیں بند ہوں، پولیس اور نیم فوجی دستے تعینات ہوں، ٹرانسپورٹ متاثر ہو اور سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لیا جائے تو جمہوری آزادیوں کے بارے میں سوال اٹھنا فطری ہے۔ لیکن یہ صورتحال دہلی میں احتجاج کرنے والوں سے بھی متقاضی ہے کہ وہ ان حالات سے کشمیر کے حالات کی سنگینی اور دہائیوں سے اسے یہ ستم برداشت کرنے والے کشمیریوں کا بھی ادراک کریں جو دہلی کے مقابلہ میں ہزار ہا گنا زیادہ مشکلات ومصائب کا شکار ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں معاملہ صرف کسی ایک احتجاج کو روکنے اور چند روزہ سکیورٹی انتظامات تک محدود نہیں ہے۔ گزشتہ ساڑھے تین عشروں میں وہاں دس لاکھ بھارتی فوج کی تعیناتی، ڈریکونی قوانین کے ساتھ اس قابض فوج کا وحشیانہ استعمال، ماورائے قتل، گرفتاریاں، نقل و حرکت پر پابندیاں، مواصلاتی بندشیں، توہین وتذلیل اور انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیاں ایک طویل تاریخی پس منظر رکھتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے 2018 اور 2019 کی اپنی رپورٹس اور اسکے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت تمام بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور امریکی محکمہ خارجہ کی سالانہ رپورٹس میں متواطر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال، شہریوں کے تحفظ، قتل ، تشدد،گرفتاریوں اور جواب دہی کے فقدان کے مسائل پر تشویش ظاہر کی گئی۔ ان دستاویزات سے واضح ہوتا ہے کہ کشمیر کا معاملہ محض امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ بنیادی حقوق اور سیاسی حل کا سوال بھی ہے۔
بھارت کا اعتدال پسندمیڈیا سوال کررہا ہے کہ دہلی میں سرحدی حفاظت کے لئے قائم فورسز کیا کررہی ہیں ؟تو 90 کی دہائی میں بی ایس ایف نے جو ظلم و چنگیزیت مقبوضہ جموں و کشمیر میں کی ،اسکا جواب کون دے گا؟ بھارتی شہریوں باالخصوص دہلی میں احتجاج کرنے والے اعتدال و اصلاح پسند نوجوانوں کو بی ایس ایف اور آئی ٹی بی پی کے اہلکاروں کو دیکھ کر یا ان کے ہاتھوں جبر کا کوڑا کھاتے ہوئے یاد کرنا چاہئے کہ انہی فورسز نے 1990 سے لیکر 1994 کے درمیان صرف چار برسوں میں گاؤ کدل ،کاؤ ڈارہ، بائی پاس وخانیار سرینگر، سوپور، ہندواڑہ، کپواڑہ، بیجبہاڑہ، کنگن اور آڈنہ بیروہ سمیت مقبوضہ جموں و کشمیر میں دو درجن سے زائد قتل عام کے واقعات کا ارتکاب کیا جن میں مجموعی طور پر ایک ہزار سے زائد نہتے اور بے گناہ لوگ شہید کئے گئے۔ کنن پوش پورہ، چوٹہ بازار سرینگر اور زینہ پورہ شوپیاں سمیت خواتین کی اجتماعی عصمت دری کے واقعات اس سے الگ ہیں۔
یہ واقعات محض تاریخی اعداد و شمار نہیں۔ ہر قتل ، ہر عصمت ریزی کے پیچھے ایک خاندان، ایک زندگی اور انصاف کا ایک سوال ہے۔ بھارت کے نوجوانوں، اپوزیشن کارکنوں، صحافیوں اور عام شہریوں کو دہلی کے واقعات سے یہ سبق لینا چاہیے کہ شہری آزادیوں کا دفاع صرف اس وقت نہیں کیا جاتا جب پابندیوں کا نشانہ کوئی اپنا گروہ بنے۔ جمہوریت کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب شہری حکومت سے اختلاف کریں، طاقتور اداروں سے جواب طلب کریں اور ان کے مطالبات حکمرانوں کو ناگوار گزریں۔
محبوبہ مفتی کا یہ مؤقف کہ جب احتجاج کو طاقت سے روکا جائے تو بعد میں احتجاج نہ ہونے کو عوامی رضامندی بنا کر پیش کیا جا سکتا ہےایک اہم نکتہ ہے۔ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں اسی نسخے پر عمل پیرا ہے۔اگست 2019 کی آئینی جارحیت کے بعد سے پوری کشمیری قوم کو جبر اور پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑ کر قبرستان کی خاموشی قائم کرلی گئی اور اسی خاموشی کو امن کا نام دیا جارہا ہے۔ تاہم دہلی اور کشمیر کے حالات کو یکساں قرار دینے کے بجائے ان کے دورانیے، شدت، قانونی تناظر اور زمینی حقائق کا تقابل ضروری ہے۔ دہلی میں مظاہرے کو روکنے کی کسی ایک دن کی کارروائی اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں دس لاکھ فوج کے ذریعہ دہائیوں پر محیط منظم وادارہ جاتی ریاستی دہشت گردی کے تجربات میں بڑافرق ہے تاہم دونوں جگہ شہری آزادیوں اور ریاستی طاقت کا استعمال قابل سوال ہے۔
اصل جمہوری معیار یہ نہیں کہ ریاست کتنی بڑی فورس تعینات کر سکتی ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق کا احترام کرتے ہوئے اختلافِ رائے کو کتنی جگہ دیتی ہے۔ اگر دہلی کے شہری اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں تو کشمیریوں کے حقوق، ان کی سیاسی آواز، آزادی اور انصاف کے مطالبات کو بھی اسی اصول کے تحت سننا ہوگا۔ ریاستی طاقت کا احتساب کسی ایک شہر یا خطے تک محدود نہیں ہونا چاہیے؛ انصاف کا اصول سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔







