مقبوضہ جموں وکشمیر:نئے قوانین کا نفاذ، آبادی کا تناسب تبدیل کرنا اور جمعہ کے خطبات پر پابندیاں قابلِ مذمت ہیں:حریت رہنما
اسلام آباد: کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آئے روز نئے قوانین کے نفاذ، آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں اور مذہبی معاملات میں مداخلت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان اقدامات کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی کی زیرِ صدارت اسلام آباد میںایک اجلاس میں حریت رہنمائوںنے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں نئے قوانین اور انتظامی اقدامات کے ذریعے نہ صرف کشمیری عوام کے بنیادی حقوق سلب کرنے کی کوشش کر رہی ہے بلکہ علاقے کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی پالیسیوں کے ذریعے اس کی مسلم اکثریتی شناخت کو متاثر کرنے کے درپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے کشمیری عوام کے سیاسی، سماجی اور مذہبی حقوق کے لیے سنگین خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔
اجلاس میں جمعہ کے خطبات کو سرکاری ہدایات کے تابع کرنے کی کوششوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ حریت رہنماوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اب مسلم اکثریتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جمعہ کے خطبات کو بھی اپنی مرضی کے مطابق مرتب اور کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذہبی خطبات اور عبادات میں حکومتی مداخلت کشمیری مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی اور مذہبی آزادی کو محدود کرنے کی کوشش تصور ہوگی۔ حریت رہنماوں نے کہا کہ کشمیری مسلمانوں کو اپنے عقائد کے مطابق عبادات کی ادائیگی، مساجد میں دینی فرائض کی انجام دہی اور مذہبی معاملات میں آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ مذہبی مقامات اور خطبات کو سیاسی و انتظامی دبا وکے تابع کرنا بنیادی حقوق اور مذہبی آزادی کے اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں، نئے قوانین کے نفاذ اور مذہبی آزادی پر عائد کی جانے والی پابندیوں کا نوٹس لیں اور کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔








