تازہ ترین

ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک فراہم کنندگان نئے قوانین کے خلاف سراپا احتجاج ، بھارت چھوڑنے پر مجبور

نئی دہلی 26ستمبر (کے ایم ایس) ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (VPN)فراہم کرنے والوں نے مودی حکومت کی ڈیجیٹل مخالف پالیسیوں کے خلاف بطوراحتجاج بھارت چھوڑنا شروع کر دیا ہے جس کے نتیجے میں بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیر میںبی جے پی حکومت کے ہندوتوا ایجنڈے پر تنقید کرنے والی ویب سائٹس تک رسائی محدود یا بالکل ختم ہوگئی ہے۔
تازہ ترین اعلان پروٹون وی پی این کی جانب سے بھارت سے سرورز کو ہٹانے کے بارے میں آیا ہے۔ پروٹون اور دیگر VPNفراہم کنندگان نے کل اتوارکو نئے ڈیٹا قوانین کے نافذ ہونے کے بعد بھارت چھوڑنے اور دوسرے ممالک میں سرورز کے ذریعے اپنے صارفین کو سروسز فراہم کرنے کا اعلان کیا۔یہ ڈیٹا قوانین بھارت کی الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے تحت کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کی طرف سے جاری کیے گئے ہیں اور اس سلسلے میں ہدایات کا اعلان مودی حکومت نے 28اپریل کو کیا تھا۔کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ پروٹون کمیونٹی کی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے ہم بھارت میں موجود اپنے VPNسرورز کو ہٹا رہے ہیں۔کمپنی اب سنگاپور منتقل ہو گئی ہے۔ ایکسپریس وی پی این، سرفشارک اور نورڈ وی پی این جیسی کمپنیاں پہلے ہی بھارت چھوڑنے کا اعلان کر چکی ہیں۔بھارت چھوڑنے کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے ملک میں کام کرنے والے تمام VPNفراہم کنندگان، ڈیٹا سینٹرز اور کلائوڈ سروس فراہم کرنے والوں کو پابند کیا کہ وہ اپنے صارفین سے پانچ سال تک تفصیلی اور درست ڈیٹا اکٹھا کریں اور رپورٹ کریں۔ان ہدایات کے تحت بھارت میں VPNفراہم کنندگان اور ڈیٹا سینٹرز کو صارف کے نام، پتے، ای میل اور فون نمبروں کی تفصیلات فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قوانین کے تحتVPNپر رجسٹر ہونے کے لیے استعمال ہونے والا IPایڈریس بھی فراہم کرنا ہوگا۔ ڈیٹا کے نئے قوانین کے مطابق VPNفراہم کرنے والوں کو VPNاستعمال کرنے کی وجہ بتانا ہوگی۔ یہ ڈیٹاسائبر سیکورٹی کے واقعات کی تحقیقات میں مدد کے لیے کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کو فراہم کرنا ہوگا۔نئی ہدایات اتوار کو لاگو ہوئیںاور عمل نہ کرنے کی صورت میں ایک سال تک قید ہو سکتی ہے۔بھارت کے ان آمرانہ قوانین کی پابندی کرنے کے بجائے VPNکمپنیاں ملک سے بھاگ رہی ہیں کیونکہ یہ ہدایات VPNفراہم کنندگان کے بنیادی کاروبار کے خلاف جاتی ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مودی حکومت کا دعویٰ ہے کہ نئے قوانین کا کاروباری عملداری پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ہدایات VPN فراہم کرنے والی خدمات کی نوعیت سے متصادم ہیں اور ایسے فیصلے بھارت کو ڈیجیٹل طورپراس انقلابی دنیا میں تنہا کر دیں گے۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: