بھارت: ہندو انتہا پسند تنظیم کی طرف سے نماز جمعہ میں خلل ڈالنے کی دھمکی

friday

نئی دہلی 04 اکتوبر (کے ایم ایس) بھارت میں سول سوسائٹی کے ایک گروپ سٹیزنز فورم نے پولیس کو خط لکھا ہے جس میں بھارتی ریاست ہریانہ کے علاقے گڑگاوں میں مسلمانوں کی نماز جمعہ میں خلل ڈالنے کی دھمکی دینے پر ہندو انتہا پسند تنظیم ”بھارت ماتا واہنی“کے ارکان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گڑگاوں ایکتا منچ کے ایک وفد نے ڈپٹی کمشنر پولیس آستھا مودی سے ملاقات بھی کی اور دھمکیوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔گڑگاوں کے رہائشی الطاف احمد نے جو فورم کے ایک فعال رکن ہیں، بتایا کہ گروپ نے خط کے ذریعے پولیس کو دھمکیوں سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہاکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ” بھارت ماتا واہنی “اور اس کے ارکان نماز کے مقامات پر دکھائی دیتے رہے ہیں ، اماموں کو دھمکاتے اور اشتعال انگیز زبان استعمال کرتے ہوئے نماز میں خلل ڈالنے اور تشدد بھڑکانے کی منظم کوشش کرتے ہیں۔ اشتعال انگیزی کی تازہ ترین کوشش 24 ستمبر کو سیکٹر 47 میں، ویجی لنس آفس کے سامنے کی گئی ، جو انتظامیہ کی نماز کے مقامات کی فہرست میں شامل ہے۔بھارت ماتا واہنی کی دھمکیاں سب سے پہلے 2018 میں سامنے آئی تھیں جب تنظیم نے مساجد کے باہر خالی جگہوں پر نماز جمعہ پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔الطاف نے کہا کہ مسلمان ان جگہوں پر نماز پڑھتے ہیں کیونکہ جمعہ کے دن مساجد میں جگہ کافی نہیں ہوتی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: