کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمیشہ رہے گا، وزیر اعظم شہباز شریف
فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی نسل کشی کے اسرائیلی ایجنڈے کو ظاہرکرتی ہے ،یو این جنرل اسمبلی سے خطاب
نیویارک :وزیر اعظم شہاز شریف نے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمیشہ رہے گا ۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کشمیر میں استصواب رائے ہونا چاہیے۔ کشمیریوں کو م اجتماعی سزا دی جا رہی ہے اور بھارت مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق وزیر اعظم نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کشمیریوں کی سیاسی ،اخلاقی اورسفارتی اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک انہیں انکا حق خود ارادیت نہیں مل جاتا۔ انہوںنے زوردیکر کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔انہوں نے کہا کہ میں کشمیری بہنوں بھائیوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ان کے لیے اپنی سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے یہاں تک کہ انھیں ان کا حق نہیں مل جاتا۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل خطے میں امن کے لیے انتہائی ضروری ہے، 8 دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہے ہیں، اقوام متحدہ کشمیریوں کے حق خودارادیت سے متعلق وعدے پورے کرے۔
انہوں نے سندھ طاس معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر ختم کیا، اس اقدام کی کوئی حیثیت نہیں، اس فیصلے کو اقوام متحدہ اور مصالحتی عدالت نے مسترد کر دیا۔ہمیںپانی کو بطور ہتھیار ہرگز استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
وزیر اعظم نے معرکہ حق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے جھوٹا بہانہ بنا کر پاکستان پر حملہ کیا اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنا دفاع کیا۔ پاکستان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کا مقابلہ کیا اور اسے وہ سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دو ایٹمی پڑوسی ملک کھلی جنگ کے دہانے پر تھے تاہم صدر ٹرمپ کی قیادت کے باعث جنوبی ایشیا کے لاکھوں عوام کی جانیں بچ گئیں، ۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں یقینی بنانا ہو گا کہ جنوبی ایشیا دوبارہ اس صورت حال پر نہ پہنچے، اس کے لیے یہ یقینی بنانا ہو گا کہ مسئلہ کشمیر حل ہو جائے
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے رواں سال فروری میں خلیج اور مشرق وسطی کو جنگ نے اپنی لپیٹ میں لیا جس سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، معیشتوں کو نقصان پہنچا اور آبنائے ہرمز جیسے اہم سمندری راستے شدید دبا ئو میں آ گئے، اس نازک موڑ پر پاکستان نے فوری اقدامات کا فیصلہ کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکا اور ایران کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے بٹھایا، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششوں نے سفارت کاری کی گنجائش پیدا کی، سفارت کاری اب بھی جاری رہنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کو کھلا رہنا چاہیے۔وزیر اعظم نے کہا کہ مکہ کے مقدس شہر پر ڈرون حملے نے دنیا بھر میں مسلمانوں کو غم و غصے میں مبتلا کیا، حرمین شریفین پر حملہ ریڈ لائن ہے، پاکستان سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ کھڑا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، یہ خطے میں دفاع اور امن کے لیے مشترکہ کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن ہے، حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، پاکستان، ترکیہ اور سعوی عرب کا اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں۔
وزیر اعظم نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا کہ کئی نسلوں سے فلسطینی عوام اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، اسرائیلی تشدد کا مغربی کنارے تک پھیلنا انتہائی تشویشناک ہے، فلسطینیوں کی زبردستی بے دخلی اسرائیل کے نسل کشی کے ایجنڈے کو ظاہرکرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو دنیا میں کہیں بھی پیدا ہونے والے بچوں کی طرح جینے کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پرمشتمل آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں لبنان اور شام کے خلاف جاری اسرائیلی جارحیت کی بھی مذمت کی۔
انہوں نے دہشتگردی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی عالمی امن اور سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے، پاکستان نے دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے صف اول کی ریاست کے طورپردہشتگردوں کا مقابلہ کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریبا ایک لاکھ قیمتی جانوں کی قربانی دی اور 150 ارب ڈالرکا معاشی نقصان برداشت کیا، ہماری مسلح افواج اور بہادر شہریوں کی قربانیوں کی بدولت آج دنیا زیادہ محفوظ ہے، امن پسند دنیا پاکستان کی لازوال قربانیوں کو جھٹلا نہیں سکتی۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی اورفتنہ الہندوستان ،بی ایل اے افغان سرزمین کوپاکستان کیخلاف استعمال کررہے ہیں، افغان حکام اپنی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
انہوںنے کہا کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، خطے میں امن کے لیے ہے۔وزیراعظم نے خلیل الرحمان کو جنرل اسمبلی کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔انہوں نے کہا کہ امن کی تلاش انسانیت کی عظیم ترین کاوشوں میں سے ایک ہے۔ وزیراعظم نے سور الانفال کی آیت نمبر 61 کا حوالہ دیا کہ ارشاد باری تعالی ہے کہ اور اگر وہ امن کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو جائو۔شہباز شریف نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے چوتھی بار خطاب کر رہا ہوں، ہم اقوام متحدہ کے منشور کے ساتھ کھڑے ہیں اور میں 240 ملین پرامن پاکستانی عوام کی نمائندگی کررہا ہوں۔KMS/M





