یاسین ملک کشمیر یوں کی آزادی کی آواز بلند کرنے پرغیر منصفانہ طورپر قیدہیں
اسلام آباد:نئی دلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں غیر قانونی طورپر نظربند جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کی جدوجہد کی حمایت اور بھارتی جبر کے خلاف آواز بلند کرنے پر غیرمنصفانہ طور پر قیدہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یاسین ملک نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے آواز اٹھانے کی وجہ سے برسوں بھارتی جیلوں میں قید، تشدد اور اپنے اہلخانہ سے جدائی کا سامنا کیا ہے۔ یاسین ملک کیخلاف قائم جھوٹے مقدمات اور عدالتی کارروائیوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھارتی حکومت کے سیاسی عزائم اور مقدمات کے وقت اور نوعیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔یاسین ملک کی طویل قید اور مبینہ طور پر 36سال پرانے واقعے سے متعلق تازہ کارروائی نے انصاف کے تقاضوں، قانونی طریقہ کار اور سیاسی انتقام کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کردی ہے۔ برسوں کے بھارتی جبر نے یاسین ملک کے خاندان کو جدوجہد آزادی کشمیر میں ان کے اہم کردار کی وجہ سے تنہاکر دیا ہے کیونکہ ان کا واحد "جرم” آزادی کا مطالبہ ہے۔
بھارتی جیل میں برسوں قید رہنے کے باعث وہ اپنی والدہ، اہلیہ اور بیٹی سے دور ہیں، جس سے ان کے خاندان کو شدید تکلیف کا سامنا ہے۔یاسین ملک کی اپنے خاندان سے برسوںکی جدائی کشمیری حریت رہنمائوں کی طویل نظربندی کی انسانی قیمت کی عکاسی کرتی ہے ۔ جے کے ایل ایف چیئرمین کے کیس نے بھارتی جیلوںمیں کشمیری آزادی پسند قیادت کے ساتھ روا رکھے جانیوالے سلوک کے بارے میں بھی تشویش پیدا کردی ہے ۔ یاسین ملک کے اپنے خاندان کے نام پیغام سے برسوں کی جدائی اور قید و بند کی وجہ سے پیدا ہونے والا درد ظاہر ہوتا ہے۔
ادھرکل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما عبدالصمد انقلابی نے نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قیدمحمد یاسین ملک کے خلاف جانبدارانہ بھارتی عدالتی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کے خلاف درج جھوٹے مقدمات کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ یاسین ملک کو ایک سوچے سمجھے سیاسی منصوبے کے تحت انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یاسین ملک نے حال ہی میں سرینگر کی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کرایا ہے جس میں انہوں نے بھارتی نظامِ انصاف پر مکمل عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیری حریت قیادت کے خلاف سیاسی بنیادوں پر قائم مقدمات اور طویل حراستوں کی غیرجانبدارانہ تحقیقات یقینی بنائے۔انہوں نے کہا کہ یہ بیرون ملک مقیم کشمیریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی برادری کو آگاہ کریں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں نہ صرف عام شہری بلکہ پوری سیاسی قیادت کو قید، ظلم وتشدد، انتقامی کارروائیوں اور مسلسل ریاستی دبائو کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔





