بھارت : نوجوان سکھ کارکن موہنجیت سنگھ پر دوران حرات پولیس کا تشدد
پٹیالہ: بھارتی ریاست پنجاب میں پولیس نے ایک نوجوان سکھ کارکن موہنجیت سنگھ کو گرفتار کر کے دوران حراست شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔
پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کو 2 ستمبر کو سنگرور کے علاقے شیرون میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرنا تھا۔ جب وہ اجتماع سے خطاب کر رہے تھے تو کارکن موہنجیت سنگھ نے جلسہ گاہ سے تقریباً 200 میٹر دور ایک مکان کی چھت سے سیاہ پرچم لہرا کر احتجاج کیا۔ انہوں نے نعرے بھی لگائے جس کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔بعد ازاں اطلاعات سامنے آئیں کہ پولیس حراست کے دوران انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔پولیس حراست میں تشدد کے الزامات کے بعد موہنجیت سنگھ کو اتوار کے روز پٹیالہ کے راجندرا ہسپتال میں داخل کرایا گیا۔ان کے حامیوں اور قریبی ساتھیوں نے بتایا کہ سنگرور کے ایک ہسپتال میں ایک جونیئر ڈاکٹر کی جانب سے انجیکشن دیے جانے کے بعد ان کی حالت بگڑ گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ انجیکشن لگنے کے بعد وہ کچھ دیر تک بے ہوش رہے۔
دریں اثنائاپوزیشن جماعتوں نے موہنجیت سنگھ پر تشدد کا ذمہ دار سنگرور پولیس کو ٹھہراتے ہوئے متعلقہ پولیس افسران کی برطرفی کا مطالبہ کیاہے۔یہ پیش رفت انسانی حقوق کے بھارتی کمیشن (این ایچ آر سی) کی جانب سے پنجاب کے چیف سیکریٹری کو پولیس تشدد کے معاملے کی تحقیقات کرنے اور دو ہفتوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کے ایک روز بعد سامنے آئی۔موہنجیت سنگھ کے حامیوں نے تنظیموں اور مقامی رہائشیوں سے اپیل کی تھی کہ وہ احتجاجی مقام پر جمع ہوں اور سنگرور میں پنجاب حکومت اور پولیس کے خلاف مظاہرہ کریں۔ تاہم انہیں پٹیالہ منتقل کیے جانے کے بعد احتجاج ملتوی کر دیا گیا۔






