مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر :ہر برس 30 ہزار کے قریب نوجوان گریجویشن کی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں

حکومت کے پاس گریجویٹس کے روزگار سے متعلق کوئی ڈیٹا موجود نہیں

سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ہر برس 30ہزارکے قریب نوجوان گریجویشن کی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں لیکن حکومت کے پاس ان کے روزگار سے متعلق کوئی منظم یا یکجا ڈیٹا موجود نہیں ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ علاقے کی قانون ساز اسمبلی میں اس حوالے سے حال ہی میں جمع کروائے گئے جواب میں اعتراف کیا گیا کہ یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل طلبہ کس شعبے میں جا رہے ہیں، اس کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔ مقبوضہ علاقے کی موجودہ فعال افرادی قوت میں گریجویٹ نوجوانوں کی نمائندگی صرف 13 فیصد ہے۔اس کا مطلب ہے کہ ہر سال ڈگریاں حاصل کرنے والے ہزاروں نوجوانوں کی اکثریت یا تو بے روزگار رہ جاتی ہے، یا پھر وہ مجبوراً اپنی تعلیم سے مطابقت نہ رکھنے والے کم درجے کے کام کاج کرنے پر مجبور ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں بے روزگاری کی شرح 6.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو کہ بھارتی قومی اوسط (3.5 فیصد) سے تقریباً دوگنی ہے۔ خطے میں 4.73 لاکھ (4 لاکھ 73 ہزار) سے زائد نوجوان ایسے ہیں جو برسرِروزگار نہیں ہیں لیکن کام کرنے کے خواہش مند ہیں۔ ان بے روزگاروں میں 98,466 گریجویٹس اور 70,428 پوسٹ گریجویٹس شامل ہیں۔ محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ روزگار کی شرح کا دارومدار طلبہ کی مزید تعلیم، مسابقتی امتحانات اور انفرادی مہارتوں پر ہوتا ہے، اس لیے کالج کی سطح پر ان کا تعاقب نہیں کیا جاتا۔
ماہرین کے مطابق منظم نجی شعبہ یہاں کل روزگار کا 3 فیصد سے بھی کم حصہ بناتا ہے۔ زیادہ تر آبادی زراعت یا چھوٹے خاندانی کاروبار پر انحصار کرتی ہے، جس کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے کارپوریٹ یا پروفیشنل ملازمتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سرکاری محکموں میں ہزاروں آسامیاں خالی ہونے کے باوجود بڑے پیمانے پر بھرتیاں نہ ہونے سے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button