مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال سیلاب، بادل پھٹنے سے 200افراد کی موت ہوئی
بروقت کارروائی میں قابض حکام کی ناکامی سے صورتحال بد تر ہوگئی

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں2025 میں سیلاب اور بادل پھٹنے سمیت موسم سے متعلق قدرتی آفات سے کم از کم 199افراد کی جانیں ضائع ہوئیں جس سے علاقے میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات اور بروقت اقدامات میں قابض حکام کی ناکامی بے نقاب ہوگئی ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے سرکاری اعداد و شمار میں کہاگیا کہ10دسمبر 2025تک سیلاب اور شدید بارشوں کی وجہ سے 199افراد کی موت ہوئی، 11,693مویشی ہلاک ہوئے، 8,404مکانات کو نقصان پہنچا اور 77,915ہیکٹر پر پھیلی فصلیں تباہ ہوئیں۔ ان ہلاکتوں اوربڑے پیمانے پر تباہی نے مقبوضہ علاقے میں منصوبہ بندی، قبل از وقت انتباہی نظام اور بروقت امدادی کارروائیوں کے بارے میں سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ بھاری نقصان خاص طور پر جموں خطے میں تباہی سے مقبوضہ علاقے میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے موثر تیاری کے فقدان کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کی نازک ماحولیاتی صورتحال میںغیر منصوبہ بند ترقی اور انتظامی بے حسی نے شہریوں کی زندگیوں اور ذریعہ معاش کو شدید خطرات سے دوچارکردیا ہے۔







