حاضر سروس بھارتی فوجی اہلکار منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار

نئی دلی:بھارت میں منشیات اسمگلنگ کے ایک بڑے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے جس میں حاضر سروس فوجی اہلکار سمیت چھ افراد کو گرفتار کیا گیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ملزمان چیک پوسٹوں اور ٹول پلازوں سے باآسانی گزرنے کے لیے سرکاری شناختی کارڈز کا غلط استعمال کرتے تھے۔بھارتی روزنامے دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے ریاست پنجاب کے ضلع فریدکوٹ میں کارروائی کرتے ہوئے ایک ایسے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے جس میں ایک حاضر سروس فوجی، ایک برطرف پولیس اہلکار اور خواتین سمیت دیگر افراد شامل تھے۔ گرفتار فوجی کی شناخت جرنیل سنگھ جبکہ سابق پولیس اہلکار کی شناخت امر دیپ سنگھ کے نام سے ہوئی ہے۔پولیس کے مطابق ملزمان کے قبضے سے 4.8کلوگرام ہیروئن، اسلحہ، دو گاڑیاں اور ایک ایکس یو وی برآمد کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرکاری شناختی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے ملزمان چیک پوسٹس اور ٹول پلازوں سے بغیر تلاشی گزرنے میں کامیاب رہتے تھے، جس سے اسمگلنگ کے اس نیٹ ورک کو سہولت ملتی رہی۔ڈائریکٹر جنرل پولیس پنجاب گورو یادیونے میڈیا کو بتایا ہے کہ گرفتار افراد متعدد منشیات اسمگلنگ مقدمات میں مطلوب تھے اور ان کے خلاف مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا جا سکے۔مبصرین کے مطابق مودی حکومت کی نااہلی اور بھارتی فوج کی منشیات مافیا میں موجودگی نے بھارت کو جرائم پیشہ عناصر کیلئے محفوظ گڑھ بنا دیا۔بھارتی فوج میں کڑا احتساب نہ ہونے کے باعث باوردی افراد منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے سرغنہ بن چکے ہیں۔







