بھارت : مساجد اور مدارس کو غیر قانونی تعمیرات کا نام دے کر منہدم کیاجارہاہے
مسلمان نہ جھکا ہے اور نہ کبھی جھکے گا، مولانا ارشد مدنی
نئی دلی: جمعیت علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے بھارت بھر میں مساجد، مقبروں اور مدارس کو غیر قانونی تعمیرات کا نام دے کر منہدم کئے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مولانا ارشد مدنی نے نئی دلی میں جمعیت علما ہند کے دو روزہ ورکنگ کمیٹی کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مودی حکومت کے دور جان بوجھ کر مسلم کمیونٹی کو ڈرانے اور دھمکانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے واضح کیاکہ مسلمان نہ ماضی میں جھکا ہے اور نہ کبھی جھکے گا، اسلام کو مٹانے کی کوشش کرنے والے خود مٹ گئے، پھر بھی اسلام ہمیشہ قائم رہا۔ انہوں نے کہا کہ مودی کے دور حکومت میں ملک میں نفرت کی سیاست کی جگہ اب خوف و ہراس کی سیاست نے جنم لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلمانوں میں یہ تصور پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں کہ انہیں اپنی زندگی کچھ شرائط کے ساتھ گزارنی ہوگی۔مولاناارشد مدنی نے ‘وندے ماترم’ پر بھی سخت اعتراض کیا اورکہاکہ سرکاری اور تعلیمی اداروں میں اس کے پڑھنے کو لازمی قرار دینا آئین کی بنیادی روح اور مذہبی آزادی کے اصول کے خلاف ہے۔ انہوں نے خبردار کیاکہ اگر بی جے پی حکومت نے یہ فیصلہ واپس نہ لیا تو جمعیت عدالتوں سے رجوع کرے گی۔انہوں نے یکساں سول کوڈکے نفاذ کے خلاف اپنی قانونی جنگ جاری رکھنے کے عزم کابھی اعادہ کیا۔مغربی بنگال اور آسام میں انتخابات کے دوران انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو کھلم کھلا دھمکیاں دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت ہر شہری کو اپنی پسند کا لیڈر منتخب کرنے کا حق دیتی ہے اور کسی مخصوص سیاسی جماعت کو ووٹ دینے سے گریز کرنا جرم نہیں ہے۔کنونشن کے دوران جاری کردہ ایک منشور میں جمعیت نے دعوی کیا کہ حالیہ برسوں میں مذہبی جنون اور فرقہ وارانہ کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جبکہ آئینی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے محض خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ تنظیم نے الزام لگایا کہ بعض سیاسی جماعتیں اپنی سیاسی طاقت کے حصول میں اکثریتی برادری کو اقلیتوں کے خلاف کھڑا کر رہی ہیں۔




