بھارت :سی جے پی کے بانی کی طرف سے عمر خالدکے ذکر نے گودی میڈیا کو بے چین کردیا

نئی دہلی : نئی دہلی میں احتجاجی مظاہرے کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیتدپکے نے جیل میں نظر بند طالب علم رہنما عمر خالد کے کیس پر بات کی تو گودی میڈیا میں ہلچل مچ گئی ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دپکے نے جنتر منتر پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کی زیرقیادت حکومت میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ عمر خالد یا مسلمان ہوتے تو انہیں اب تک جیل بھیج دیا جاتا۔ عمرخالد 2020 میںدہلی فسادات سے متعلق ایک کیس کے سلسلے میں بغیر کسی مقدمے کے کئی سالوں سے جیل میں نظربند ہیں۔دپکے کے بیان نے گوڈی میڈیا، حکومت کے حامی ٹیلی ویڑن چینلز اور مودی حکومت کی حمایت یافتہ سوشل میڈیاصارفین کو بے چین کردیا۔ انہوں نے سی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ NEET، NTA اور SSC کے امتحانی پیپر لیکس اور بے ضابطگیوں پر طلباءکے احتجاج کو سیاسی رنگ دے رہے ہیں۔بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کو ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک، سی پی آئی (ایم) کے رہنماو¿ں اور اداکاروں کی بھی حمایت حاصل ہے۔دپکے نے احتجاجی مقام پر بھاری تعداد میںپولیس کی تعیناتی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ مظاہرین کو پنڈال میں داخل ہونے سے روکا جارہا ہے ۔





