بھارت

بھارت میں اسلام اور مسلمان دونوں کو نفرت کا نشانہ بنایاجارہا ہے: ارشد مدنی

لکھنو:جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے بھارت کے سیاسی اور سماجی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرقہ پرست قوتیں پہلے صرف مسلمانوں کو نشانہ بناتی تھیں لیکن گزشتہ چند سالوں میں نفرت کی سیاست کی وجہ سے مسلمان اور اسلام دونوں ہی حملوں کی زد میں ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جمعیت علمائے ہند اترپردیش کے زیر اہتمام ہندو مسلم اتحاد کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ارشدمدنی نے کہا کہ نفرت کی اس سیاست نے بھارت کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ہمیں اس ماحول کو بدلنا ہو گا اور اس کے لیے ہر سطح پر عملی کوششیں کرنی ہوں گی۔ یہ تبدیلی اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک ہم دوسرے مذاہب کے ہم خیال لوگوں کو اکٹھا نہیں کریں گے اور فرقہ پرستی اور نفرت کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے۔ارشد مدنی نے تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برطانوی راج کے خلاف پہلی آواز دہلی کے ایک مدرسے سے تعلق رکھنے والے عبدالعزیز محدث دہلوی کی طرف سے آئی جس کی وجہ سے 1832 اور 1857 کی بغاوتیں ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ آج اس کانفرنس سے فرقہ واریت اور نفرت کے خلاف جو آواز بلند ہوئی ہے اسے نہ تو کوئی طاقت دبا سکتی ہے اور نہ ہی کمزور کر سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علمائے ہند ایک مذہبی تنظیم ہے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے اوراس نے آزادی سے پہلے اور بعد میں ہندوو¿ں اور مسلمانوں کے درمیان محبت کا پل بنانے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے طلباء کے مستقبل کو تباہ کرنے والے پیپر لیکس اور رام پور میں مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کے تنازعہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بلڈنگ پلان کی خلاف ورزی پر پوری عمارت کو منہدم کرنے سے ہزاروں طلباءکا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔ مہمان خصوصی سنکت موچن ہنومان مندر وارانسی کے مہنت وشومبھر ناتھ مشرا اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اندرا جے سنگھ نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا اور اتحاد کے لیے ارشد مدنی کی مہم کی حمایت کی۔بدھ مت، عیسائی اور سکھ برادریوں کے رہنماو¿ں نے بھی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا مدنی کی طرف سے شروع کی گئی تحریک وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button