مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر:جموں میں 14.17 لاکھ اور وادی میں 3.45 لاکھ ریزرویشن سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے

پی ڈی پی رکن اسمبلی نے سرکاری اعداد و شمار میں نمایاں علاقائی تفاوت پر تشویش کا اظہار کیا

سری نگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ریزرویشن سرٹیفکیٹس کے اجراءمیں نمایاں علاقائی تفاوت نے محکمہ مال (ریونیو ڈیپارٹمنٹ) کے پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رکن اسملی وحید الرحمان پارہ نے ان اعداد و شمار کے حوالے سے شفافیت اور تفصیلی وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔
پلوامہ سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی وحید پرہ نے محکمہ مال کی جانب سے قانون ساز اسمبلی میں پیش کردہ اعداد و شمار پر سوال اٹھایا۔ ان اعداد و شمار کے مطابق 2018 سے اب تک ہندو اکثریتی خطہ جموں میں 1,417,028 ریزرویشن سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے جو کل تعداد کا 80.4 فیصد ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں مسلم اکثریتی خطہ کشمیر میں 345,918 سرٹیفکیٹ (یعنی 19.6 فیصد) جاری کیے گئے۔ سرٹیفکیٹس کی مجموعی تعداد 1,763,946 رہی۔
ضلع وار اعداد و شمار میں بھی نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ سری نگر میں 4,466 سرٹیفکیٹس کے مقابلے میں ضلع جموں میں 198,910 سرٹیفکیٹ جاری ہوئے، جبکہ راجوری میں 437,479 اور پونچھ میں 324,753 سرٹیفکیٹ ریکارڈ کیے گئے۔ جموں ڈویڑن کے دیگر اضلاع کے اعداد و شمار میں کٹھوعہ (117,315)، ادھم پور (83,616)، ڈوڈہ (62,776)، ریاسی (53,023) اور سانبہ (58,583) شامل ہیں۔
وادی کشمیر میں اعداد و شمار کے مطابق کپواڑہ میں 80,289، بارہمولہ میں 73,379، اسلام آباد میں 52,086، کولگام میں 26,760، بانڈی پورہ میں 22,325، گاندربل میں 20,556، پلوامہ میں 19,614 اور شوپیاں میں 18,476 سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے۔
پرہ نے کہا کہ یہ اعداد و شمار محکمہ مال کی جانب سے ان کے سوال کے جواب میں فراہم کردہ سرکاری معلومات پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریزرویشن سرٹیفکیٹس کے اجرامیں اس قدر وسیع علاقائی تفاوت شفافیت اور تفصیلی وضاحت کا تقاضا کرتا ہے۔
اس تفاوت نے دونوں خطوں میں ریزرویشن سرٹیفکیٹس کے اجراءکو کنٹرول کرنے والے معیارات، زمروں اور انتظامی عمل کی زیادہ جانچ پڑتال کی ضرورت کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے، خاص طور پر جب کہ اعداد و شمار 2018 سے آٹھ سال کی مدت پر محیط ہیں۔
یہ مسئلہ علاقائی تفاوت، نمائندگی اور سرکاری فوائد تک رسائی پر جاری سیاسی بحث کے درمیان سامنے آیا ہے، قانون ساز دہلی کے زیر کنٹرول انتظامیہ کے کام کاج میں زیادہ شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ریزرویشن سرٹیفکیٹ یہ ثابت کرتا ہے کہ کوئی شخص ریزرویشن سسٹم کے تحت ریزرویشن/کوٹہ کے فوائد کے حقدار زمرے سے تعلق رکھتا ہے ۔ مثال کے طور پر، شیڈولڈ کاسٹ (ایس سی)، شیڈول ٹرائب (ایس سی) یا دیگر مخصوص محفوظ زمرہ جات اس کا استعمال تعلیم یا بھرتی میں مخصوص نشستوں جیسے فوائد کا دعوی کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button