پاکستان

مکہ دفاعی معاہدے نے پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام بنا دیں: امریکی ماہر

اسلام آباد : جنوبی ایشیا سے متعلق امریکی ماہر ڈینیئل مارکے نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے سے پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی بھارت کی کوششوں کو بڑا دھچکا پہنچا ہے اور مشرق وسطیٰ میں اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی سفارتی و تزویراتی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اسٹمسن سینٹر کے سینئر فیلو ڈینیئل مارکے نے بھارتی نیوز پورٹل دی وائر کو انٹرویو میں کہا کہ یہ معاہدہ بھارت کے لیے اچھی خبر نہیں، کیونکہ نئی دہلی طویل عرصے سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے اور پاکستان کے مغربی ایشیا کے ممالک سے قریبی روابط محدود کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے بڑھتے ہوئے فوجی تعاون سے اسلام آباد کو بالخصوص ڈرونز سمیت ترک دفاعی ٹیکنالوجی تک زیادہ رسائی حاصل ہو گی، جو بھارت کے لیے عسکری اعتبار سے باعث تشویش ہے۔مارکے کے مطابق خطے میں اب ایسا نیا تزویراتی منظرنامہ تشکیل پا رہا ہے جس میں پاکستان کو نظرانداز کرنے کے بجائے مرکزی حیثیت حاصل ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چند برسوں میں ایسے جغرافیائی سیاسی مواقع سے فائدہ اٹھایا ہے جن کا تصور پانچ سال قبل مشکل تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بڑی اور موثر فوج اسلام آباد کے لیے خطے کے ممالک سے سیاسی اور معاشی تعاون حاصل کرنے کا اہم ذریعہ بن چکی ہے، جبکہ سعودی عرب پاکستان کو مالی، سیاسی اور جغرافیائی وسیاسی حمایت فراہم کرسکتا ہے۔امریکی ماہر نے کہا کہ اس پیش رفت سے بھارت کے لیے مستقبل میں پاکستان کے خلاف کسی بھی فوجی مہم جوئی کے امکانات مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں، خصوصا چین سے حاصل کردہ جدید ہتھیاروں اور پاکستان کی بہتر ہوتی دفاعی صلاحیتوں کے تناظر میں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اب وائٹ ہائوس کے ساتھ باقاعدہ رابطوں کے ساتھ مشرق وسطیٰ اور یورپ میں بھی پہلے سے زیادہ اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button