بھارت

ناگالینڈ: ‘وندے ماترم’ کو لازمی قرار دینے کے خلاف ناگا اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا احتجاج جاری

کوہیما: ریاست ناگالینڈ میں مودی کی بھارتی حکومت کی طرف سے ‘وندے ماترم’ کے گانے کو لازمی قرار دینے کے خلاف ناگا اسٹوڈنٹس فیڈریشن کااسمبلی کے باہر احتجاج جمعرات کو دوسرے دن بھی جاری رہا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مودی حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ناگا اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے اراکین نے شدید نعرے بازی کی ۔اسمبلی میں اس مسئلے کو اٹھاتے ہوئے، حکمران ناگا پیپلز فرنٹ کے ایم ایل اے اور این ایس ایف کے سابق صدر اچمبیمو کیکون نے کہا کہ یہ احتجاج کسی مخصوص حلقے تک محدود نہیں ہے بلکہ پوری ریاست سے متعلق ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ تنازعہ ‘وندے ماترم’ کے گانے کو لازمی قرار دینے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اور اس معاملے پر ایوان میں پہلے ہی بحث ہو چکی ہے۔کیکون نے کہا کہ مرکزی وزارت داخلہ نے 28جنوری کو ایک حکم نامہ جاری کیا تھا، جس میں ریاستوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ قومی تقریبات میں اہم وی وی آئی پیز کی آمد پر ‘وندے ماترم’ کے لازمی گانے کو یقینی بنائیں۔نہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کو بعد میں ایک کمیٹی کو بھیجا گیا تھا۔ یہ کمیٹی آئین کے آرٹیکل 371 اے کے تناظر میں ناگالینڈ پر پارلیمنٹ کے ذریعے منظور کیے گئے قوانین کے اطلاق کی جانچ کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔کیکون نے ناگااسٹوڈنٹس فیڈریشن سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی ۔ تاہم اسٹوڈنٹس فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ جب تک ناگالینڈ قانون ساز اسمبلی ‘وندے ماترم’ کے لازمی گانے کی مخالفت میں قرارداد منظور نہیں کرتی تب تک وہ اپنا احتجاج جاری رہے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button