یوم دفاع :ہیل پاکستان اور کے آئی آئی آرکے زیر اہتمام سیمپوزیم، پاک فوج کے شہدا کو خراجِ عقیدت
اسلام آباد: یومِ دفاع پاکستان کے سلسلے میں ہیل پاکستان نے کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے اشتراک سے ایک سمپوزیم کا انعقاد کیا جس میں پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیوں، بہادری اور فتوحات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ”قربانی، بہادری اور فتح: ہماری مسلح افواج، ہمارا فخر“ کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی قومی سلامتی کے جغرافیائی و سیاسی تقاضوں پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔سیمپوزیم میں مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے نوجوان اسکالرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی جس سے نئی نسل تک حب الوطنی، عزم اور ثابت قدمی کی میراث منتقل کرنے کی اہمیت اجاگر ہوئی۔تقریب کی صدارت کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے کی۔ انہوں نے کشمیری عوام کی جدوجہد کے تناظر میں پاکستانی عوام اور ملک کے محافظوں کے درمیان ا ٹوٹ رشتے کو اجاگر کیا۔تقریب میں ممتاز دانشوروں اور قانونی ماہرین نے بھی اظہارِ خیال کیا۔ انٹرنیشنل سینٹر فار کنفلکٹ اینڈ پیس (ICCP) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر زاہد حارث نے مضبوط فوج کی اسٹریٹجک ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی اور ایک جوہری طاقت کے طور پر پیچیدہ علاقائی حالات میں پاکستان کی منفرد پوزیشن کا تجزیہ کیا۔ ایڈووکیٹ ملک آصف اعوان نے قانونی اور شہری پہلوپیش کرتے ہوئے ملکی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کو ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری قرار دیا۔ سماجی کارکنان اللہ نواز اور حبیب الرحمٰن نے قومی آفات کے دوران مسلح افواج کے انسانی کردار اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کے غیر متزلزل عزم کو اجاگر کیا۔تقریب کا مرکزی حصہ ایک جامع پریزنٹیشن پر مشتمل تھا جس میں پاکستان کی مسلح افواج کی تاریخ کا جائزہ پیش کیا گیا۔ اس میں 1965ءکی جنگ میں فوج کو درپیش کٹھن مراحل سے لے کر نشانِ حیدر حاصل کرنے والے میجر راجا عزیز بھٹی کی بہادری، آپریشن ضربِ عضب کی کامیابیوں اور ”آپریشن بنیان المرصوص“ کی تزویراتی دوراندیشی تک مختلف مراحل کا احاطہ کیا گیا۔اختتامی خطاب میں مقررین نے کہا کہ اگرچہ فوج ملک کی ڈھال کا کردار ادا کرتی ہے، تاہم اس ڈھال کی مضبوطی قومی اتحاد، معاشی استحکام اور اندرونی تقسیم کے خاتمے پر منحصر ہے۔ نوجوان اسکالرز پر زور دیا گیا کہ وہ امن کی جنگوںیعنی غربت، ناخواندگی اور مہنگائی کے خلاف بھی اسی جذبے اور عزم سے جدوجہد کریں جس جذبے سے فوجی سرحدوں پر دفاع کرتے ہیں۔تقریب کا اختتام شہدا اور ان کے اہلِ خانہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے اور ”ایمان، تقویٰ، جہاد فی سبیل اللہ“ کے نصب العین سے قومی وابستگی کے عزم کے ساتھ ہوا۔






