مضامین

بھارت: 20 مدارس بند، ہزار ہندتوء اسکول قائم

اقلیتوں کی سکڑتی جگہ کا انجام کیا ہوگا؟

 

تحریر: ارشد میر

بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوری و سیکولر ریاست اور تمام شہریوں کو مساوی حقوق دینے والے آئینی نظام کے طور پر پیش کرتا ہے لیکن زمینی صورتِ حال اس دعوے کے برعکس ایک ایسی تصویر دکھا رہی ہے جس میں مذہبی اقلیتوں، دلتوں اور دیگر کمزور طبقات کے لیے زندگی، شناخت اور اپنے اداروں کے تحفظ کی گنجائش مسلسل اور تیزی سے سکڑتی جارہی ہے۔ تازہ واقعات اس بڑھتے ہوئے رجحان کی محض الگ الگ مثالیں نہیں بلکہ ایک ایسے وسیع تر عمل کے مختلف پہلو ہیں جس میں ریاستی اختیار، انتظام اور فسطائی ہندتوء نظریہ ایک دوسرے کے قریب آتے نظر آتے ہیں۔
ایک طرف بھارتی حکومت اور اس کی ریاستی مشینری مدارس کے خلاف کارروائیاں تیز کر رہی ہے تو دوسری طرف ہندو فسطائیت کی مادر تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کی تعلیمی شاخ ‘ودیا بھارتی’ کے اسکولوں کے پھیلاؤ کو سیاسی سرپرستی حاصل ہو رہی ہے۔ بی جے پی کے زیر اقتدار ریاست اتراکھنڈ میں اب تک 20 مدارس کو بند کیا جانا اسی رجحان کی تازہ مثال ہیں۔ ریاست کے محکمہ اقلیتی بہبود اور مقامی انتظامیہ کی مشترکہ کارروائیوں کے نتیجے میں دہرادون اور ہلدوانی میں متعدد مدارس سیل کیے گئے۔ دہرادون میں مدرسہ جامع السلام الاسلامیہ کو سیل کیا گیا جبکہ مدرسہ دارالارقم اور مدرسہ دارالعلوم رحیمیہ کی بندش کا بھی تانا شاہی حکم جاری کردیا گیا ہے۔ ہلدوانی میں مدرسہ جامعہ نوریہ برکاتے امینہ سمیت مزید مدارس کے خلاف کارروائی ہوئی۔ حکام کے مطابق 17 مدارس سیل کیے جاچکے ہیں جبکہ تین دیگر نے بندش کی تصدیق کی ہے۔
یہاں بنیادی سوال مدارس کے انتظامی یا قانونی معاملات سے بھی بڑا ہے۔ اگر کسی ادارے میں قانونی خلاف ورزی موجود ہے تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہی معیار تمام مذہبی اور تعلیمی اداروں پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے؟ اور کیا ریاست کا مقصد واقعی قانون کی یکساں عمل داری ہے یا مذہبی شناخت سے وابستہ اداروں کی گنجائش محدود کرنا؟
اس سوال کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب اسی ملک میں آر ایس ایس کی تعلیمی شاخ ‘ودیا بھارتی’ کے تحت بڑے پیمانے پر نئے اسکول قائم کرنے کا اعلان سامنے آتا ہے۔ مغربی بنگال میں بی جے پی کے رہنما سویندو ادھیکاری نے ایک سال کے اندر ‘ودیا بھارتی’ کے زیر انتظام کم از کم ایک ہزار اسکول قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان اسکولوں کو ریاست کے اضلاع، میونسپلٹیز اور پنچایتوں تک پھیلانے کی بات کی گئی ہے۔ مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ ان علاقوں میں اضافی اسکول قائم کرنے پر زور دیا گیا ہے جہاں حکمران حلقے "ملک دشمن سرگرمیوں” کی موجودگی کا پروپیگنڈہ کرکے ہندو فسطائیت غالب کرنے کے بہانے تراشتے ہیں۔
یہ محض اسکولوں کی تعداد بڑھانے کا معاملہ نہیں۔ ‘ودیا بھارتی’ طویل عرصے سے ہندتوء نظریے کو تعلیم کے ذریعے فروغ دینے میں کوشاں ہے۔ پہلے مصنوعی طور پر خوف پیدا کرنا اور غلبہ پانا فسطائیت کی ایک اہم شکل ہے۔ چنانچہ ‘ودھیا بھارتی’ کے نصاب اور تدریسی طریقۂ کار میں جی فرقہ وارانہ اور خدشات پر مبنی مسلم مخالف تصورات کو فروغ دیا جارہا ہے۔ ‘ ودیا بھارتی’ کے متعدد سابق طلبہ اور اساتذہ اسکی تصدیق کر چکے ہیں۔ اگر ایک طرف اقلیتی برادری کے اپنے تعلیمی ادارے انتظامی کارروائیوں کے ذریعے بند کیے جائیں اور دوسری طرف ایک ایسی فسطائی نظریات کی حامل تنظیم کے تعلیمی نیٹ ورک کو ریاستی پشت پناہی حاصل ہو، جو مذہبی اکثریت پر مبنی قوم پرستانہ سوچ پھیلارہی ہو، تو پھر یہ سوال ناگزیر ہوجاتا ہے کہ بھارتی ریاست کا تعلیمی تصور کس خطرناک سمت بڑھ رہا ہے؟
سویندو ادھیکاری کا یہ کہنا کہ جو اسکول ’’وندے ماترم‘‘ کا مکمل ورژن گانے سے انکار کریں گے ان کی مالی معاونت واپس لے لی جائے گی، اس سوال کو مزید گہرا کرتا ہے۔ تعلیم کا بنیادی مقصد ذہنوں کو آزاد کرنا، اختلاف کو برداشت کرنا اور شہریوں میں تنقیدی شعور پیدا کرنا ہوتا ہے نہ کہ کسی مخصوص نظریاتی یا مذہبی قوم پرستی کو لازمی شناخت بنانا۔
خطرناک پہلو یہ ہے کہ بھارتی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کو جس خود ساختہ اعلیٰ ذات کی ہندو اشرفیہ کے ساتھ مقابلہ ہے اس کے پاس ملک کی طاقت، اختیار اور اور وسائل ہیں اور اس کو اپنی بالادستی اور فسطائیت کے خلاف اپنے وہ ہم مذہب ہندو بھی قبول نہیں ہیں جنھیں ہزاروں برسوں سے کم تر اور اچھوت قرار دیکر بدترین اور غیر انسانی امتیاز کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کرم چند گاندھی نے انھیں دلت قرار دیا تھا تاکہ ہندو اکثریت کی طاقت بنی رہے۔ اکثریت کی بنیاد پر تو یہ اشرافیہ تو بھارت کی مالک بن چکی ہے مگر جن دلتوں کے بل پر اکثریت کا دائرہ اٹھاتی ہے انھیں عملاً اپنا حصہ نہیں سمجھتی۔
ایک عالمی جریدے کی تازہ رپورٹ میں ان ہی دلتوں کے ساتھ جاری امتیاز کو اجاگر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارتی آئین کا برابری کا وعدہ عملاً محض دعویٰ بن کر رہ گیا ہے۔ 2022ء میں دلتوں پر تشدد کے 57 ہزار 500 سے زائد مقدمات کا اندراج، جن میں صرف اتر پردیش میں ہی 15 ہزار سے زیادہ کیسز شامل تھے، اس مسئلے کی سنگینی ظاہر کرتا ہے۔
یعنی ایک طرف مذہبی اقلیتوں کے ادارے دباؤ میں ہیں تو دوسری طرف تاریخی طور پر محروم دلت طبقہ امتیازی سلوک اور تشدد کی شکایات سے دوچار۔ اس صورتِ حال میں بھارتی آئین کی وہ روح کہاں باقی رہ جاتی ہے جو شہریوں کو مساوات، مذہبی آزادی اور قانون کے یکساں تحفظ کی ضمانت دیتی ہے؟
بھارت میں مسلمانوں کے مدارس کو ہی نہیں بلکہ گھر وں اور مساجد کو بھی بڑے پیمانے پر مسمار کیا جارہا ہے۔ جولائی میں صرف چھ روز کے دوران 24 مساجد کو سڑک کی کشادگی کے نام پر منہدم کیا گیا جبکہ انہی شاہراہوں پر قائم کسی مندر کو منہدم نہیں کیا گیا۔ غیر قانونی تعمیرات، تجاویزات یا سڑکوں کی کشادگی کے نام پر مودی سرکار نے جو وحشیانہ مہم شروع کررکھی ہے اسکو بلڈوزر سیاست کے نام سے جانا جاتا ہے اور بین الاقوامی اخبارات و جرائد میں رپورٹس اور مضامین چھپے ہیں کہ بھارت میں مودی کی بلڈوزر سیاست جارحانہ، بے رحم، ماورائے قانون، فرقہ وارانہ اور امتیازی ہے۔ مگر اسکے باوجود یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔
سہارنپور میں ایک مسجد کے حالیہ انہدام پر جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کا ردعمل اسی بنیادی سوال کو سامنے لاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بلڈوزر محض ایک تعمیر گرانے کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ تفریق اور نفرت پر مبنی سیاست کی علامت بن چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تجاوزات یا غیر قانونی قبضہ کارروائی کا معیار ہے تو یہی معیار ہر مذہب اور ہر طبقے کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔
اس معاملے میں مسجد کمیٹی کی جانب سے 1911 سے متعلق دستاویزات، میونسپل ریکارڈ اور پرانے ریونیو ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کیا گیا جبکہ مسجد کی وقف بورڈ میں رجسٹریشن اور زمین کی ملکیت سے متعلق دستاویزات کا حوالہ بھی دیا گیا۔ مولانا مدنی کا سوال یہ ہے کہ اگر قانونی تنازع موجود تھا تو اسے عدالتی طریقۂ کار کے ذریعے حل کرنے کے بجائے انہدام کا راستہ کیوں اختیار کیا گیا؟ اور اگر سرکاری زمینوں، سڑکوں اور عوامی مقامات پر مختلف مذاہب سے وابستہ دیگر مذہبی تعمیرات بھی موجود ہیں تو کیا ان سب کے خلاف بھی بالکل وہی معیار، وہی رفتار اور وہی سختی اختیار کی جاتی ہے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں انفرادی واقعات ایک بڑے سیاسی اور سماجی سوال میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ مسئلہ ایک مدرسے، ایک مسجد یا ایک اسکول کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ کیا بھارت میں شہری حقوق مذہبی شناخت سے الگ رہ سکتے ہیں؟ مسلمان اپنے تعلیمی اور مذہبی ادارے اسی اعتماد کے ساتھ کیوں نہیں چلا سکتے جس اعتماد کے ساتھ اکثریتی مذہب سے وابستہ ادارے کام کرتے ہیں؟ کیا دلت اور دیگر محروم طبقات آئینی مساوات کو محض کتابی وعدہ سمجھنے پر ہی اکتفاء کریں گے؟
اگر اقلیتوں اور ان کے اداروں کی جگہ اسی رفتار سے سکڑتی رہی اور اکثریتی قوم پرستانہ نظریے کے ادارے ریاستی سرپرستی میں پھیلتے رہے تو اس کا اثر صرف آج کی نسل تک محدود نہیں ہوگا۔ تعلیم آنے والی نسلوں کے ذہن تشکیل دیتی ہے۔ اگر تعلیمی نظام میں تاریخ، قوم، مذہب اور شہری شناخت کی تعبیر یک طرفہ ہوجائے تو چند دہائیوں بعد پیدا ہونے والی نسل کے لیے ’’بھارتی‘‘ ہونے کا تصور بھی مذہبی اکثریت کے سانچے میں ڈھل جائے گا۔ یہی وہ مرحلہ ہوگا جہاں بھارت کا سیکولر جمہوریت کا رہا سہا یا علامتی آئینی تصور بھی قائم نہیں رہ پائے گا۔
بھارتی حکمران اشرافیہ کو ایک بنیادی حقیقت نظرانداز نہیں کرنی چاہیے۔ بھارت میں اقلیتیں کوئی چھوٹا یا حاشیائی گروہ نہیں۔ مسلمان دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادیوں میں سے ایک ہیں جبکہ ملک میں دلت، سکھ، عیسائی، قبائلی اور دیگر گروہ بھی کروڑوں انسانوں پر مشتمل ہیں۔ اتنی بڑی آبادیوں کو نہ ختم کیا جاسکتا ہے، نہ کہیں منتقل کیا جاسکتا ہے اور نہ ان کی شناخت کو مستقل طور پر ختم کیا جاسکتا ہے۔
ریاست جب کسی برادری کے لیے قانونی، سیاسی، تعلیمی اور معاشرتی جگہ مسلسل محدود کرتی ہے تو وہ صرف اس برادری کو دباؤ میں نہیں لاتی بلکہ اپنے ہی معاشرے میں احساسِ محرومی، عدم تحفظ اور بیگانگی کو جنم دیتی ہے۔ اور جب یہ احساس نسلوں تک منتقل ہو تو اس کے نتائج انتہائی خطرناک ہوجاتے ہیں۔ محروم و مظلوم اقلیتوں اور طبقات کو ایک دن اپنی بقاء کے لئے لڑائی لڑنا پڑتی ہے۔
ضروری نہیں کہ یہ ’’لڑائی‘‘ مسلح مزاحمت ہو تاہم جبر قائم رہا تو یہ، یہ شکل بھی اختیار کر سکتی ہے۔ کسی بھی معاشرے میں بقا کی جدوجہد سیاسی، قانونی، جمہوری، سماجی اور مزاحمتی شکلیں اختیار کرسکتی ہے۔ لیکن اگر کسی بڑی آبادی کو یہ احساس ہونے لگے کہ اس کے آئینی حقوق، مذہبی آزادی، ادارے اور شناخت محفوظ نہیں تو پھر وہ اپنے وجود کے دفاع کے لیے صف بندی پر مجبور ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب کروڑوں انسان اپنے آپ کو ایک مشترکہ نظام میں برابر کا شہری محسوس کرنا چھوڑ دیں گے تو اتنے بڑے ملک کا سیاسی اور سماجی ، ڈھانچہ و استحکام کہاں کھڑا ہوگا؟
ہندتوء کی فسطائی اور نسل پرستانہ سوچ میں ڈوبی طاقتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ریاستیں صرف اکثریت کے جذبات سے نہیں، انصاف، مساوات اور اعتماد سے قائم رہتی ہیں۔ اگر اقلیتوں کو مسلسل یہ پیغام دیا جائے کہ ان کے مذہبی ادارے مشکوک ہیں، ان کی عبادت و تعلیم گاہیں ناقابل قبول ہیں اور ان کی تاریخ قابلِ تردید ہے جبکہ اکثریتی نظریے کے اداروں کو قومی مفاد کا نمائندہ سمجھا جائے، تو یہ پالیسی بھارت کو مضبوط نہیں کرے گی بلکہ اس کی داخلی وحدت کو کمزور کرے گی۔
ایک ہزار آر ایس ایس اسکول قائم کرنا شاید مودی سرکار کو سیاسی کامیابی دکھائی دے مگر ایک ہزار نظریاتی اسکول بھی اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتے کہ ایک کثیرالمذہبی اور کثیرالثقافتی ملک کو یک رنگ بنانے کی کوشش ہمیشہ مزاحمت پیدا کرتی ہے۔ بھارت کا مستقبل اس سوال پر منحصر ہے کہ وہ اپنی کثرت کو طاقت سمجھتا ہے یا اسے مٹانے کی کوشش کرتا ہے؟
اگر بھارت واقعی جمہوریت ہے تو اس کا امتحان یہ نہیں کہ اکثریت کو کتنی آزادی حاصل ہے بلکہ یہ کہ اقلیت کتنی محفوظ و مطمئن ہے۔ اگر آئین واقعی سب کے لیے ہے تو مسجد اور مندر، مدرسہ اور اسکول، مسلمان اور ہندو، دلت اور اعلیٰ ذات، سب کے لیے قانون کا معیار ایک ہونا چاہیے۔
ورنہ مدارس کی بندش اور آر ایس ایس کے اسکولوں کا پھیلاؤ محض دو متوازی خبریں نہیں رہیں گی۔ یہ اس سمت کی نشان دہی کریں گی جہاں ایک طرف اقلیتوں کی جگہ مسلسل سکڑ رہی ہے اور دوسری طرف اکثریتی نظریے کا دائرہ وسیع کیا جارہا ہے۔ اور اگر یہی عمل جاری رہا تو اس کا حتمی نتیجہ کسی ایک اقلیت کی شکست نہیں بلکہ بھارت کی اپنی داخلی سلامتی، سیاسی وحدت اور جمہوری مستقبل کے لیے ایک انتہائی خطرناک بحران کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔
سوال پھر وہی ہےکہ کیا ہندو قوم پرستی اور نسل پرستی میں غرق یہ طاقتیں اس دن کا تصور کر رہی ہیں جب وہ تمام لوگ، جنہیں آج بتدریج حاشیے پر دھکیلا جارہا ہے، اپنے اپنے وجود، بقاء اور شناخت کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے پر مجبور ہوجائیں گے؟ اگر وہ دن آگیا تو سوال یہ نہیں ہوگا کہ بھارت اقلیتوں کے ساتھ کیا کرے گا بلکہ سوال یہ ہوگا کہ بھارت خود اس داخلی کشمکش کا کتنا بوجھ اٹھا سکے گا۔
جمہوریت اکثریت کی حکمرانی کا نام ضرور ہے مگر اقلیت کے حقوق کی ضمانت کے بغیر وہ جمہوریت نہیں رہتی۔ بھارت کے لیے راستہ اب بھی موجود ہے۔اور وہ ہے آئین کی طرف واپسی، قانون کی یکساں عمل داری، مذہبی آزادی کا حقیقی تحفظ، ہر شہری کو بلاامتیاز برابر سمجھنے کا عزم اور کسی علاقہ پر جبری تسلط قائم کرکے اسے اپنا اٹوٹ انگ کہنے کی سامراجی روش ترک کرنا۔ اگر یہ راستہ اختیار نہ کیا گیا تو جس ’’مضبوط بھارت‘‘ کا خواب مودی سرکار بیچتی ہے وہ اپنی ہی داخلی تقسیم کے بوجھ تلے بکھر جائے گا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button