پاکستان

بھارت نقشوں کے ذریعے کشمیر کا متنازعہ حیثیت مٹا نہیں سکتا۔سردار مسعود خان

اسلام آباد:آزاد جموں و کشمیر کے سابق صدر اور پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت نقشوں، یکطرفہ اعلانات یا ملکی قوانین کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کا غیرقانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر بشمول لداخ کونقشوں پر اپنی سرزمین دکھانا متضاد ہے، کیونکہ بھارت نے خود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا جس کا مقصدنقشوں میں علاقوں اور خطوں کوان کے اصل حجم کے مطابق زیادہ درست اور منصفانہ طورہر دکھانا تھا۔
انہوں نے کہا کہ یہ قرارداد، جو 164 ووٹوں کی اکثریت سے منظور ہوئی، صرف جغرافیائی تخمینوں کو درست کرنے کے لیے تھی اور اس کا مقصد علاقائی تنازعات کا حل نہیں تھا۔ انہوں نے کہا، "بھارت کی نقشہ نگاری کی قرارداد کو جموں و کشمیر پر اپنے علاقائی دعوئوں سے جوڑنے کی کوشش لہٰذا بے معنی ہے۔”سردار مسعود خان نے کہا کہ جموں و کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے، جہاں کنٹرول لائن آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور مقبوضہ جموں و کشمیر کو الگ کرتی ہے، اور اقوام متحدہ کافوجی مبصر مشن اب بھی کنٹرول لائن کے دونوں جانب موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تقریباً ایک درجن قراردادیں، بشمول قراردادوں میں تسلیم کیا گیاہے کہ جموں و کشمیر کی حتمی حیثیت کا فیصلہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام رائے شماری کے ذریعے کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کیا جانا چاہیے۔اقوام متحدہ کے آرکائیوز کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ سرکاری نقشے جموں و کشمیر کو متنازعہ ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے بھارت کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ یہ اس کا "اندرونی معاملہ” ہے، اور خبردار کیا کہ یہ غیر حل شدہ تنازع کشمیرجنوبی ایشیا کے امن کوتباہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ، انسانی حقوق کونسل اور بین الاقوامی میڈیا اور بیرون ملک مقیم کشمیریوں کے ساتھ سفارتی رابطوں کو تیز کرے تاکہ کشمیر کی قانونی اور تاریخی حقیقت کو "دوبارہ لکھنے یا مٹانے” کی بھارت کی کوششوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button