جنوبی کشمیر اور جموں میں بھارتی ایجنسیوں کی چھاپہ مار کارروائیاں
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی ایجنسیوں نے اتوار کے روز مختلف مقامات پر چھاپہ مارکارروائیاں کیں۔
کاونٹر انٹیلی جنس کشمیر (سی آئی کے) نے جنوبی کشمیر کے شوپیاں اور کولگام اضلاع میں متعدد مقامات پر چھاپے مارے اورتلاشیاں لیں۔ سی آئی کے کی ٹیموں نے بھارتی فورسز کے ساتھ ملکر یہ کارروائیاں کیں۔ایک الگ کارروائی میں ریاستی تحقیقاتی ایجنسی (ایس آئی اے) نے جموں خطے میں پانچ مقامات پر چھاپے مارے جن میں سے چار پونچھ اور ایک ادھم پور میں واقع ہے۔ کارروائیوں کی زد میں آنے والے افراد میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔ ایس آئی اے کے ایک بیان کے مطابق پونچھ کے منڈی اور سرنکوٹ جبکہ ادھم پور کے رام نگر علاقوں میں یہ تلاشی کارروائیاں کی گئیں۔ جن افرادکے گھروں پر چھاپے مارے گئے ان میں سیلان سرنکوٹ کے رہائشی راحیل پرویز اور محمد امین، فضل آبادسرنکوٹ کی رہائشی رشیدہ بی، ڈانگری چھلان منڈی کے منور حسین اور برنو جندرور، رام نگر کی بانو شامل ہیں۔چھاپوں کے دوران موبائل فونز اور دیگر مواد قبضے میں لے کر فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیے گئے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں دھشت گردی کے خلاف تحقیقات کے نام پر چھاپے، گرفتاریاں اور ڈیجیٹل نگرانی معمول کی کارروائیاں ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیاں سیاسی اختلافِ رائے رکھنے والوں کو نشانہ بنانے اور کشمیریوںپر دباو¿ ڈالنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں جبکہ ہزاروں کشمیری کسی مقدمے کے بغیر یو اے پی اے اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت جیلوں میں نظربند ہیں۔






