امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کا بھارت پر مذہبی اقلیتوں کے ساتھ بدسلوکی پر تشویش کا اظہار
واشنگٹن:امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت کی طرف سے مذہبی اقلیتوں کے ساتھ رواسلوک اور مذہبی آزادی کے قیدیوں کی طویل حراست پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امریکی محکمہ خارجہ پر زور دیا ہے کہ وہ بھارتی حکام کو برطانوی نژاد سکھ کارکن جگتار سنگھ جوہل کی تقریباً نو سال کی غیر قانونی حراست کے بعد ضمانت پررہائی کے بعد دیگر زیر حراست افراد کی فوری رہائی کے لیے دباؤ ڈالے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق امریکی کمیشن کے چیئرمین آصف محمود نے ایک بیان میں کہاکہ "ہم نئی دہلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں جس میں جگتار سنگھ جوہل کو تقریباً نو سال کی غیر قانونی اور اذیت ناک حراست کے بعد ضمانت دی گئی ہے۔ تاہم، ان کی برطانیہ واپسی اور اپنے خاندان سے دوبارہ ملنے کے حوالے سے ابھی بھی غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔”
انہوں نے کہا، "ضمانت کی شرائط کے تحت جوہل کو اپنا پاسپورٹ جمع کرانا پڑا، ان پر پریس سے رابطے پر پابندی عائد ہے، اور انہیں اب بھی آٹھ الزامات میں سزائے موت کا سامنا ہے۔”
امریکی کمیشن کے مطابق، بھارتی حکام نے جوہل کو 2017 میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون (یو اے پی اے) کے تحت قتل اور دہشت گردی کے جھوٹے الزامات پر گرفتار کیا تھا۔ اقوام متحدہ نے اس قانون کو بین الاقوامی معیارات اور بھارت کی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے متصادم قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ گرفتاری سے قبل جوہل نے بھارت کی سکھ برادری کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بلاگ لکھا تھا، جسے اظہار رائے کی آزادی سے متعلق بین الاقوامی قانون کے تحت تحفظ حاصل ہے۔
آصف محمود نے نوٹ کیا کہ جوہل کے مقدمے کو ان کی حراست کے دوران مسلسل تاخیر کا سامنا رہا اور بھارتی حکام ان کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔
اقوام متحدہ نے 2022 میں جوہل کی حراست کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ جوہل نے بھارتی حکام کی طرف سے بجلی کے جھٹکے، نیند سے محرومی، دباؤ والی پوزیشنوں اور جان کو لاحق خطرات کے ذریعے جسمانی تشدد کی اطلاع دی تھی۔کمیشن کے چیئرمین نے امریکی حکومت پر زور دیا کہ وہ بھارتی حکام پر دباؤ ڈالے کہ وہ جوہل کی حراست اور رواسلوک کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرے اور بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ کے مطابق اس طرح کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کو جوابدہ ٹھہرائے۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی وائس چیئر سی سی ہیل نے کہا، "جوہل کا کیس بھارتی حکومت کی طرف سے مذہبی اقلیتوں کو خاموش کرانے یا قید کرنے کے وسیع تر نمونے کی عکاسی کرتا ہے۔ دیگر کئی مذہبی آزادی کے قیدی، جن میں عمر خالد اور شرجیل امام شامل ہیں،کو صرف پرامن احتجاج میں شامل ہونےکالے قانون یو اے پی اے کے تحت گرفتاری کاسامنا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی کمیشن نے اپنی 2026 کی سالانہ رپورٹ میں سفارش کی تھی کہ امریکی محکمہ خارجہ بھارت کو "خصوصی تشویش کا ملک”قرار دے کیونکہ وہ مذہبی آزادی کی منظم، مسلسل اور سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے۔
کمیشن نے مئی میں منعقدہ سماعت "بھارت میں مذہبی آزادی کے بگڑتے حالات” اور اگست میں شائع ہونے والی اپنی "بھارت کنٹری بریف” میں بھی بھارت میں مذہبی آزادی کے ناقص حالات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔







