جموں :آنگن واڑی کارکنوں کا احتجاج، مستقلی اور اجرت میں اضافے کا مطالبہ
جموں:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں محکمہ سماجی بہبود کے مربوط ترقی اطفال پروگرام سے وابستہ آنگن واڑی کارکنوں اور معاونین نے اپنے مطالبات بشمول ملازمتوں کو مستقلی اور معاوضوں میں اضافے کے حق میں جموں سمیت مختلف اضلاع میں احتجاج کیا۔
جموں و کشمیر آنگن واڑی ورکرز اینڈ ہیلپرز یونین کے زیر اہتمام بڑی تعداد میں کارکنوں اور معاونین نے جموں کے اندرا چوک میں جمع ہوکر احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔جموں و کشمیر گورنمنٹ ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سینئر ٹریڈ یونین رہنمائوں بابو حسین ملک، یش پال شرما اور مدن سنگرال نے احتجاج کی قیادت کی۔جموں و کشمیر آنگن واڑی ورکرز اینڈ ہیلپرز یونین کی صدر مہاجبین اور دیگر عہدیداران رینو شرما، زاہدہ پروین، سنیتا دیوان اور شوانی شرما نے آنگن واڑی کارکنوں اور معاونین کے ساتھ امتیازی سلوک پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ آنگن واڑی کارکنوں کو ماہانہ محض 5ہزار روپے جبکہ معاونین کو صرف 3 زار روپے معاوضہ دیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارکنوں کو مقررہ اوقاتِ کار کے بعد بھی مختلف محکموں کے کام انجام دینے پڑتے ہیں، اس کے باوجود انہیں مستقل نہیں کیا گیا۔
مقررین نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے آنگن واڑی کارکنوں کو بھارت کی دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں اپنے ہم منصب کارکنوں کو حاصل مراعات سے محروم رکھا جارہا ہے۔احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے آنگن واڑی کارکنوں کی ماہانہ اجرت بڑھا کر 15ہزار روپے اور معاونین کی اجرت 10 ہزار روپے کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ آنگن واڑی کارکنوں اور معاونین کے دیرینہ مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں اور انہیں ملازمتوں کو مستقل کرنے سمیت دیگر بنیادی حقوق اور مراعات فراہم کی جائیں۔



