مقبوضہ جموں وکشمیر میں گجر بکروال خاندان دریاوں کے کنارے خیموں میں رہنے پر مجبور
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں سینکڑوں گجر بکروال خاندان اور مزدور آج بھی دریاوں کے کنارے عارضی خیموں اور جھونپڑیوں میں انتہائی ناگفتہ بہہ حالات میں زندگی گزارنے پرمجبور ہیں، جبکہ انتظامیہ کی جانب سے انہیں متبادل رہائش یا بحالی کی کوئی سہولت فراہم نہیں کی جارہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محمد حسین خان نے پلوامہ کے علاقے کریم آباد میں رومشی نالہ کے کنارے ایک خیمہ نصب کر رکھا ہے جہاں وہ کئی برسوں سے اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شدید بارشوں کے دوران خوف کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ دریا میں پانی کی سطح بڑھ جاتی ہے اور بہاو¿ تیز ہو جاتا ہے، جس سے ان کے خیموں کے اچانک سیلاب کی زد میں آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ہم نے کئی مرتبہ دریا کو تیزی سے بہتے اور پانی سطح خطرناک حد تک بلند ہوتے دیکھا ہے، لیکن کسی نے ہماری پرواہ نہیں کی اور نہ ہی ہمیں کسی محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔اسی طرح کی عارضی بستیاں دریائے رمبی آڑہ کے کنارے بھی دیکھی جا سکتی ہیں جو دریائے جہلم کا ایک اہم معاون دریا ہے، جبکہ دیگر دریائی کناروں پر بھی ایسی ہی بستیاں قائم ہیں جو دریا کے بہاو¿ کے انتہائی قریب ہیں۔ ان میں سے بہت سے خاندان گجر اور بکروال برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں اور ایسے انتہائی خطرناک علاقوں میں رہتے ہیں جہاں اچانک سیلاب، بادل پھٹنے اور پانی کی سطح میں اچانک اضافے کا خطرہ رہتا ہے۔
محمد حسین نے مطالبہ کیاکہ ہمیں کسی بھی محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے۔ ہم جانتے ہیں کہ دریا کے کنارے رہنے میں خطرات ہیں، لیکن ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ ایک اورشخص نے کہا کہ ہم غریب لوگ ہیں، ہم کہاں جائیں؟ ہم جانتے ہیں کہ پانی ہمارے خاندانوں سمیت ہمارے خیمے بہا سکتا ہے۔ مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ وہ موسمی کام پر انحصار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں ان علاقوں کے قریب رہنا پڑتا ہے، جبکہ ان کے پاس دوسری جگہ زمین یا سستی رہائش موجود نہیں۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ خطرے سے دوچار بستیوں کی نشاندہی کی جائے اور انہیں محفوظ مقامات فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موسمیاتی تبدیلی نے عارضی رہائش کے روایتی مقامات کوانتہائی خطرناک علاقوں میں تبدیل کر دیا ہے۔









