بھارت :نئی دہلی کے جنتر منتر پر بھارتی پولیس نے دوصحافیوں کو گرفتار کر لیا
گرفتار صحافی چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج کی کوریج کر رہے تھے
نئی دہلی :دہلی پولیس نے ریپڈ ایکشن فورس کی مدد سے جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کی کوریج کرنے والے دو صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گرفتار کر لیا جس کی صحافتی اداروں نے مذمت کرتے ہوئے دہلی پولیس سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دہلی پولیس نے صحافی اور یوٹیوبر محمد عرفان اور فرنٹ لائن کے سینئر رپورٹر ویدانت لکھیرہ کو اس وقت گرفتار لیا جب وہ جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کی کوریج کر رہے تھے۔ احتجاج کا اہتمام آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) اورمختلف سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموںنے کیا تھا۔ احتجاج 23 ستمبر کو انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والی اس تحقیقاتی رپورٹ کے بعد کیا گیا جس میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) سے متعلق الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔
محمد عرفان نے جو یوٹیوبر ہونے کے ساتھ ساتھ دی وائر کے لیے بھی کام کرتاہے، بتایا کہ وہ احتجاج کی کوریج کر رہے تھے اور کارکن یوگیندر یادو اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم۔ایل) کے جنرل سیکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ کی ویڈیو بنا رہے تھے کہ پولیس اہلکار ان کے قریب آئے۔انہوں نے کہاکہ چار یا پانچ پولیس اہلکار تھے۔ انہوں نے مجھے گھسیٹ کر بس میں ڈال دیا۔ میں مسلسل چیخ رہا تھا، ’میرا مائیک، میرا مائیک‘۔ ہاتھا پائی کے دوران میرا مائیک ٹوٹ گیا۔ عرفان نے بتایا کہ ان کے پاس باقاعدہ پریس شناختی کارڈ موجود تھا، اس کے باوجود انہیں گھسیٹ کر پولیس بس میں ڈال دیا گیا۔ بعد ازاں دی وائر نے کہا کہ اس کے رپورٹر کو رپورٹنگ کے دوران حراست میں لیا گیا اور دی وائر کے لوگو والا اس کا مائیک چھین کر پھینک دیا گیا۔
ایک ویڈیو بیان میں عرفان نے کہا کہ وہ احتجاج کی رپورٹنگ کرنے کے لیے وہاں گیاتھا۔ انہوں نے کہاکہ پولیس صرف”گودی میڈیا“ کے اداروں کو برداشت کرتی ہے جو بی جے پی حکومت کے ایجنڈے کی تعریف اور تشہیر کرتے ہیں۔
فرنٹ لائن کے سینئر رپورٹر ویدانت لکھیرہ نے بتایا کہ دہلی پولیس کے ایک اہلکارنے جس کے لباس پر نام کی تختی نمایاں طور پر موجود نہیں تھی، انہیں احتجاجی مقام سے دھکا دے کر دور کر دیا۔ لکھیرہ نے کہا کہ انہوں نے اہلکار سے اس کا نام اور بیج نمبر بتانے کو کہا لیکن اہلکار نے نام بتانے سے انکار کر دیا۔ جب لکھیرہ نے اس اہلکار کی تصویر لینے کی کوشش کی تو ان کے مطابق پولیس اہلکار نے انہیں زبردستی احتجاجی مقام سے باہر نکالا اور پارلیمنٹ اسٹریٹ کی طرف گھسیٹ کر لے گیا۔لکھیرہ نے بتایا کہ پولیس نے ان سے لی گئی تصویر حذف کرنے کو کہا۔ انہوں نے انکار کیا جس کے بعد پولیس نے خود ان کی تصاویر بنائیں۔ بعد ازاں آزاد صحافیوں کے جمع ہونے پر انہیں رہا کر دیا گیا۔
لکھیرہ نے بعد میں سوشل میڈیا پر لکھاکہ دہلی پولیس نے آج مجھے زبردستی ہٹانے اور حراست میں لینے کی کوشش کی۔ ان میں سے بہت سے اہلکاروں نے اپنی نام کی تختیاں نہیں لگا رکھی تھیں۔
دیگرکئی صحافیوں نے بھی زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ دی پیٹریاٹ کی رپورٹر عتیقہ سعید نے بتایا کہ جب وہ واقعے کی ویڈیو بنا رہی تھیں تو پولیس کی جانب سے لوگوں کو حراست میں لینے کی کوشش کے دوران ہاتھا پائی شروع ہوگئی جس کے نتیجے میں ان کے ہاتھوں اور ٹانگوں پر چوٹیں آئیں۔
پریس کلب آف انڈیا نے دونوں صحافیوں کی حراست پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پریس شناختی کارڈ پہنے ہوئے تھے۔ ادارے نے دہلی پولیس سے وضاحت طلب کی اور احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی حفاظت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔
اس واقعے کے بعد صحافیوں اور صحافتی تنظیموں میں احتجاجی مظاہروں کی کوریج کرنے والے رپورٹرز کے ساتھ پولیس کے برتاو¿ اور پولیس اہلکاروں کی وردیوں پر نام کی تختیاں نہ ہونے کے حوالے سے تشویش پیدا ہوئی ہے۔







