بھارت کشمیریوں کے جذبہ حریت کوکمزور نہیں کر سکتا ، حریت کانفرنس
اقوام متحدہ کشمیریوں کو انکا حق خودارادیت دلانے کیلئے فوری مداخلت کرے
سرینگر :بی جے پی کی ہندوتوا حکومت نے کشمیریوں کی سیاسی آواز اور استصوابِ رائے کے منصفانہ مطالبے کو دبانے اور انہیں خوفزدہ کرنے کی اپنی مذموم کوششوں کے تحت، غیر قانونی طورپرزیر قبضہ جموں و کشمیر میںپیراملٹری اہلکاروںمیں اضافی اہلکار تعینات کررہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس کی قیادت نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارت ظالمانہ اقدامات کے ذریعے کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت کے اپنے منصفانہ مطالبے سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہد آزادی کواقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل تک جاری رکھیں گے۔حریت قیادت نے کہا کہ کشمیری 1947سے سیاسی انصاف، دیرینہ تنازعے کے حل اور اپنی سرزمین پر بھارت کے غیر قانونی قبضے اور سیاسی ناانصافی کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔
آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بی جے پی حکومت اوربھارتی قابض افواج نے مقبوضہ علاقے میں آبادیاتی اور ثقافتی تبدیلیاں لانے کے لیے ایک منظم مہم شروع کررکھی ہے، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے۔حریت قیادت نے کہا کہ 5اگست 2019کے بعد بی جے پی حکومت نے مقبوضہ علاقے میں آبادی کاتناسب تبدیل کرنے کے لیے ظالمانہ نئے قوانین نافذ کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے تمام تر جبر اور کشمیر دشمن اقدامات کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے میں ناکام رہا ہے۔انہوں نے ہزاروں حریت رہنمائوں اور کارکنوں کی مسلسل غیر قانونی نظربندی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حریت رہنما اور کارکن بشمول حریت چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم، بلال صدیقی، مولوی بشیر عرفانی، فاروق احمد ڈار، مشتاق الاسلام، ڈاکٹر حمید فیاض، حیات احمد بٹ، فاروق احمد توحیدی، غلام محمد خان سوپوری، ایڈووکیٹ زاہد علی، ظفر اکبر بٹ، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد رفیق گنائی، محمد یاسین بٹ اور عمر عادل ڈار جھوٹے الزامات کے تحت بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں مسلسل قید ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کا حوصلہ بلند ہے اور وہ بھارتی فوجی تشدد کے سامنے کبھی ہار نہیں مانیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے بھارت کو کشمیریوں کو انکا حقِ خودارادیت دینا ہو گا۔







