مقبوضہ جموں و کشمیر میں مختلف مقامات پربھارتی فورسزکی محاصرے اورتلاشی کی کارروائیاں

جموں: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز نے پونچھ، راجوری اور کٹھوعہ اضلاع میں تقریباً ایک درجن مقامات پر محاصرے اور تلاشی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج، پیراملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آرپی ایف)، بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) اور پولیس نے تینوں اضلاع میں مختلف دیہات اور دور دراز گنجان جنگلاتی علاقوں میں مشترکہ طور کاروائیاں کر رہی ہیں۔بھارتی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان علاقوں میں مشکوک نقل و حرکت کے بعد کارروائیاں شروع کی گئیں۔
ضلع پونچھ میں مینڈھر سیکٹر کے علاقوں اپر کسبلاری، تھیرا ٹوپا، ناگل گلی، کالابن اور پٹن تیر میں فوجی کارروائیاںجاری تھیں۔راجوری میں کالاکوٹ کے علاقوں پیر خانہ، پوتھا نروٹا اور اندھ جبکہ سندربنی کے علاقوں ٹھنڈا پانی اور کنسر میں بھی کارروائیاں جاری تھیں۔ بھارتی فورسزنے ضلع کٹھوعہ کے علاقوںپنجواری، کٹھیرہ اور ملحقہ علاقوں میں بھی محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں۔
قابض حکام کا کہنا ہے کہ فورسز اہلکار جنگلاتی علاقوں اور دیگر حساس مقامات پر وسیع پیمانے پر تلاشی لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک مشتبہ افراد کے ساتھ کوئی رابطہ قائم نہیں ہوا، تاہم فورسز نے نگرانی مزید سخت کر دی ہے اور مربوط کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ آخری اطلاعات آنے تک فوجی کارروائیاں جاری تھیں۔
واضح رہے کہ بھارتی فورسز مقبوضہ جموں و کشمیرمیں اکثر نام نہاد سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے فوجی کارروائیاں کرتی رہتی ہیں۔ کشمیر کے معاملات پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسی کارروائیوں کا مقصد سیاسی اختلاف کو دبانا، کشمیری آوازوں کو خاموش کرنا اور مقامی باشندوں کو ہراساں کرنا ہے تاکہ کشمیریوں کے حقوق بالخصوص اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کے جائز مطالبے کو دبایاجا سکے۔
ان کارروائیوں کے دوران اکثرکشمیری نوجوانوں کو گرفتار کیاجاتاہے اور فوجی کیمپوں اور پولیس تھانوں میں ان سے پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔ ہزاروں کشمیری غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام (یو اے پی اے) اور پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) جیسے کالے قوانین کے تحت بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی مختلف جیلوں میں نظربندہیں۔




