قومی نغمہ ”وندے ماترم’ تقسیم پسند مذہبی جنگی نغمہ ہے
نغمے میں ایک غالب برادری کی بالادستی کو آگے بڑھایا گیا ہے،سپریم کورٹ میں عرضداشت
نئی دلی :سپریم کورٹ میں دائر ایک عرضداشت میں چھ بندوں پر مشتمل قومی نغمہ ”وندے ماترم” کو تقسیم پسند مذہبی جنگی ”نغمہ”قرار دیتے ہوئے کہاگیا کہ کسی مخصوص مذہب کی مخصوص دیویوں کے لیے فرقہ وارانہ دعا کو قومی نغمہ قرار دینے والے سرکاری احکام بنیادی مذہبی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
یہ عرضداشت ریاست مہاراشٹر کی شیڈولڈ کاسٹ بدھ برادری سے تعلق رکھنے والے پھولے امبیڈ کر وادی کی طرف سے دائر کی گئی ہے اور اسکی پیروی ماہر قانون ایڈووکیٹ موہن گوپال کر رہے ہیں۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی حکومت کی طرف سے رواں برس 28جنوری اور 9جولائی کو جاری کیے جانے والے دو مسلسل سرکاری احکامات ملک میں فرقہ وارانہ تقسیم کو مزید گہراکرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔یہ احکامات اقلیتی برادریوں کے مذہبی اور روحانی جذبات کو مجروح کرنے کا باعث ہیں ۔
عرضداشت میں کہا گیا کہ وندے ماترم میں ایک غالب برادری کی بالا دستی کو آگے بڑھایا گیا ہے ۔ حکومت جس طرح سے نغمے کے تمام چھ بند پڑھنے پر دبائو ڈال رہی ہے ، اس سے اتحاد اور ہم آہنگی کا تانا بانا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے پارہ پارہ ہوجائے گا۔








