میرواعظ عمرفاروق گھر میں نظربند،بڈگام جانے سے روک دیا گیا

سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنمامیرواعظِ عمر فاروق کو ایک بارپھرسرینگر میں اپنے گھر میں نظربند کردیا اورانہیں اس متاثرہ خاندان سے اظہار تعزیت کے لئے بڈگام جانے سے روک دیا جس کی کمسن بچیکو حال ہی میںبے حرمتی کے بعدقتل کیاگیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق میرواعظ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ آج صبح سویرے مجھے گھر میں نظر بند کر دیا گیا اور بڈگام جانے سے روک دیاگیاتاکہ میں اس سوگوار خاندان سے اظہار تعزیت نہ کر سکوںجس کی 12 سالہ بیٹی ایک نہایت دل دہلا دینے والے اور افسوسناک واقعے میں جاں بحق ہوگئی۔ انہوں نے کہاکہ میرے تمام دورے قابض حکام کی اجازت سے مشروط ہوتے ہیں اور اس کے لیے ایک دن پہلے مطلع کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ عجیب بات ہے کہ ہمدردی اور تعزیت کے اظہار جیسے بنیادی انسانی جذبے کو بھی روکا جا رہا ہے کیونکہ شاید یہ قابضحکمرانوں کے امن اور معمول کی صورتحال کے بیانیے کے لیے خطرہ ہے۔




