نئی دلی : سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال دوسرے دن بھی جاری
کاکروچ جنتا پارٹی کی بی جے پی رہنمائوں کو بھی احتجاج میں شرکت کی دعوت

نئی دہلی:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرکے خطے لداخ سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن سونم وانگچک کی غیر معینہ مدت کیلئے بھوک ہڑتال دوسرے دن بھی جاری رہی جبکہ کاکروچ جنتا پارٹی نے ہندوتوابی جے پی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سونم وانگچک اورکاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھی جیت ڈپکے نے نئی دہلی کے علاقے جنتر منتر میں قائم احتجاجی کیمپ میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ)کے جنرل سیکریٹری ایم اے بیبی، سینئر رہنما برندا کرات اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سیکریٹری ڈی راجہ سے ملاقات کی اور احتجاجی تحریک پر تبادلہ خیال کیا۔بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سونم وانگچک اورابھی جیت ڈپکے نے کہا کہ یہ معاملہ سیاسی جماعتوں سے بالاتر ہے اور لاکھوں طلبہ کا مستقبل اس سے وابستہ ہے، اس لیے تمام جماعتوں کو مبینہ ”سی بی ایس ای۔نیٹ”امتحانات میںبے ضابطگیوں پر احتساب کے لیے متحد ہونا چاہیے۔سونم وانگچک نے کہا کہ یہ صرف اپوزیشن کا نہیں بلکہ ہر سیاسی جماعت، حتی کہ بی جے پی کا بھی مسئلہ ہے۔ابھی جیت ڈپکے نے کہا کہ بی جے پی کے رہنما بھی احتجاج میں شریک ہو سکتے ہیں، تاہم انہیں پارٹی پرچم کے بغیر آنا ہوگا۔سونم وانگچک نے بتایا کہ طبی معائنے کے مطابق کئی افراد ان سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بھوک ہڑتال میں شریک ہو چکے ہیں۔ احتجاج کو مختلف سیاسی اور طلبہ تنظیموں کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ۔لیننسٹ) لبریشن کے جنرل سیکریٹری دیپانکر بھٹاچاریہ، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی قومی صدر نیہا اور دیگر رہنما بھی احتجاج میں شریک ہوئے، جبکہ سی جے پی کے ترجمان انیش گائونڈے نے بھی اس تحریک کی بھرپور حمایت کا اعلان کیاہے۔






