آر ایس ایس لیڈر کا طلبہ مظاہرین کو قریب سے گولیاں مارنے کا مطالبہ، بھارت میں شدید ردعمل
ترواننت پورم: بھارت میں ہندو انتہاپسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ایک سینئر لیڈرکی جانب سے طلبہ مظاہرین کو "قریب سے گولیاں مارنے” کی تجویز پر ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، بھارتی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والے آر ایس ایس کے معروف مبصر ٹی جی موہن داس نے یہ متنازع بیان ایک یوٹیوب چینل کو انٹرویو میں دیا۔ آر ایس ایس کو بھارت کی حکمران ہندوتوا تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کی نظریاتی سرپرست تنظیم سمجھا جاتا ہے۔موہن داس نے کہا کہ اگر اختیار ان کے پاس ہوتا تو وہ نئی دلی کے جنتر منتر کے اطراف چار مربع کلومیٹر کے علاقے میں کرفیو نافذ کرتے، مظاہرین کو تین مرتبہ منتشر ہونے کی وارننگ دیتے اور اس کے بعد پولیس کو ان پر فائرنگ کا حکم دیتے۔انہوں نے مزید کہا کہ فائرنگ کے نتیجے میں کچھ مظاہرین ہلاک ہوں گے جبکہ بعض کے ہاتھ پائوں کٹ جائیں گے، جس کے بعد لاشیں اٹھائی جائیں گی۔آر ایس ایس رہنما نے مظاہرین کو "مجرم” قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگر احتجاجی مقام سے بھارتی فورسز ہٹا لی جائیں تو مظاہرین قتل اور زیادتی جیسے جرائم کا ارتکاب کریں گے۔ موہن داس نے بائیں بازو، سیکولر اور دلت تنظیموں سے وابستہ خواتین مظاہرین کے بارے میں بھی قابل اعتراض ریمارکس دیے، جن پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید مذمت کی جا رہی ہے۔جسے خواتین کے خلاف توہین آمیز قرار دیا جا رہا ہے،یہ بیانات حالیہ ملک گیر طلبہ تحریک کے بعد سامنے آئے ہیں، جس کے دوران ہزاروں طلبہ نے نئی دہلی سمیت مختلف شہروں میں امتحانی پرچوں کے بار بار لیک ہونے، بے روزگاری اور تعلیمی نظام میں حکومتی ناکامیوں کے خلاف احتجاج کیا تھا۔یہ احتجاجی تحریک بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے پر اختتام پذیر ہوئی، جو مظاہرین کے اہم مطالبات میں شامل تھا۔ مبصرین کے مطابق یہ نریندر مودی حکومت کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد عوامی دبا ئوکے نتیجے میں پیش آنے والے بڑے سیاسی دھچکوں میں سے ایک ہے۔







