بھارت :اتر پردیش میں کنور یاترا کے دوران مسلمان ڈرائیورقتل، بریانی کی دکان منہدم
لکھنو: بی جے پی کے زیر اقتداربھارتی ریاست اتر پردیش میں جاری کنور یاترا کے دوران ایک بارپھرمسلمانوںکو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایاگیا اوران کے کاروبارکو تباہ کیاگیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ہاپوڑ میں ہندو یاتریوں نے ایک مسلمان ڈرائیور کو شدید تشدد کانشانہ بنایا جو کئی روز تک موت وحیات کی کشمکش میں رہنے کے بعد دم توڑ گیا جبکہ ایک اور مسلمان شخص کو گرفتارکرکے اس کی بریانی کی دکان کو مسمارکیاگیا۔ 24سالہ محمد عظیم نے4اگست کو دہلی کے ایک ہسپتال میں دم توڑ دیا، انہیں ہاپوڑ میں کنور یاتریوں نے لاٹھیوں سے پیٹ پیٹ کر شدید زخمی کیاتھا۔ یہ واقعہ 31 جولائی کو اس وقت پیش آیا جب ان کی گاڑی کنور یاتریوں کو لے جانے والے آٹورکشا سے ٹکرا گئی۔ محمد عظیم کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ، ایک شیر خوار بیٹا اور اس کے علیل والد ہیں جو ایک سال سے زیادہ عرصے سے بستر پر پڑے ہیں۔ایف آئی آر میں چار کنور یاتریوں انکت، لوکیش، منیش اور شیوم کے ساتھ ساتھ آٹورکشا ڈرائیور اور دو نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے، تاہم پولیس نے ابھی تک اس معاملے میں کوئی گرفتاری نہیں کی۔
ایک اور واقعے میں بریلی میں پولیس نے دکاندار محمد سلمان کو اس وقت گرفتار کر لیا جب اس نے کنور یاترا کے راستے پر بریانی کی دکان لگائی۔میونسپل اور پولیس کی ٹیموں نے 8 اگست کو ہندوتوا بجرنگ دل کے کارکنوں کی شکایت پر اس کے ٹن شیڈ اور ملحقہ ڈھانچے کو منہدم کرتے ہوئے کہاکہ دکان پر ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نان ویجیٹیرین کھانا فروخت کیاجارہا تھا۔پولیس نے سلمان اور دیگر کو حراست میں لیا جبکہ دکان کی مسماری کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس کارروائی پر شدید تنقید ہوئی، بہت سے صارفین نے چکن بریانی کی فروخت پر ایک غریب دکاندارسے روزگارچھیننے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ مذہبی جذبات کو بنیادی حقوق اورروزگار پر ترجیح دی جارہی ہے۔ سیاسی مبصرین نے کنور یاترا کے دوران مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک اور کمیونٹی کے خلاف امتیازی کارروائیوں پر تشویش کا اظہارکیا۔ ناقدین نے قانونی عمل کے بغیر مسماری کو سزا کے طور پر استعمال کرنے پر بھی سوال اٹھایا ہے۔اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی گروپوں نے اتر پردیش حکومت کی طرف سے بلڈوزر کے استعمال پر بار بار تنقید کی ہے اوراس عمل کو” بلڈوزر راج“ قراردیتے ہوئے کہا کہ اس میں غریب اور اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنایاجارہا ہے۔



