
بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایک معاہدہ، ایک ملاقات یا ایک جملہ بظاہر معمول کی سفارتی سرگرمی محسوس ہوتا ہے مگر اس کے اندر خطے کے بدلتے ہوئے تزویراتی رجحانات کی پوری کہانی چھپی ہوتی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کی پیش رفت اور ناروے کے وزیر خارجہ کی جانب سے اسلام آباد میں جموں و کشمیر کے تنازع کا کھلے طور پر ذکر اسی نوعیت کے دو اہم واقعات ہیں۔ ان دونوں واقعات کو اگر الگ الگ دیکھا جائے تو شاید ان کی اہمیت محدود محسوس ہو، لیکن جب انہیں خطے کی مجموعی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک نمایاں تصویر سامنے آتی ہےکہ پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں الٹے نتائج دے بیٹھی ہیں جو نئی دہلی کے وہم وگماں میں بھی نہ تھا۔
جنوبی ایشیا کے امور کے امریکی ماہر ڈینیئل مارکے کا یہ کہنا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدے نے پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارتی کوششوں کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے، دراصل اسی بدلتے ہوئے منظرنامے کی نشاندہی کرتا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ یہ تجزیہ کسی پاکستانی سیاسی شخصیت یا حکومتی ترجمان کی طرف سے نہیں بلکہ ایک امریکی ماہر کی جانب سے سامنے آیا ہے۔ مارکے کے مطابق یہ پیش رفت بھارت کے لیے اچھی خبر نہیں ہےکیونکہ نئی دہلی طویل عرصے سے سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کرنے اور پاکستان کے مغربی ایشیا کے ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کو محدود کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان نے کسی ایک معاہدے کے ذریعے بھارت پر سفارتی برتری حاصل کرلی بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ کون سی تبدیلیاں ہیں جنہوں نے پاکستان کو ایک مرتبہ پھر علاقائی طاقتوں کے لیے ایک اہم شراکت دار بنا دیا ہے۔ اسکی وجہ خود بھارت کے دامن میں موجود ہے۔ گذشتہ سال اس نے ایک مفروضے کے تحت پاکستان پر چڑھائی کی اور جواب میں پاکستان نے اسکو ایسی ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا جو اسکے لئے دہری ہزیمت اور مایوسی کا سبب بنا کہ نہ صرف اسکے روائتی عسکری برتری زعم خاک میں مل گیا بلکہ پاکستان کی پوری دنیا میں اہمیت اور پزیرائی بڑھ گئی۔ ویسے بھی گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کو محض روایتی دوطرفہ تعلقات تک محدود رکھنے کے بجائے مختلف طاقتوں اور خطوں کے ساتھ بیک وقت روابط استوار کرنے کی کوشش کی ہے۔ چین کے ساتھ گہری تزویراتی شراکت داری اپنی جگہ موجود ہے جبکہ سعودی عرب، ترکیہ، امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ روابط بھی نئے تناظر میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
مارکے کی نظر میں پاکستان کی بڑی اور موثر فوج بھی اس سفارتی اہمیت کا ایک بڑا عنصر ہے۔ بظاہر یہ بات محض عسکری طاقت کے حوالے سے ہےمگر بین الاقوامی تعلقات میں دفاعی صلاحیت اکثر سفارتی وزن میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ جس ریاست کے پاس قابلِ اعتماد دفاعی صلاحیت ہو اور اس نے اسکا شاندارمظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سے آٹھ گنا بڑے اورجارح دشمن کے دانت کھٹے کئے ہوں تو وہ علاقائی سلامتی کے مباحث میں زیادہ اہمیت حاصل کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے بڑھتے ہوئے فوجی تعاون، خصوصاً ترک دفاعی ٹیکنالوجی اور ڈرونز تک پاکستان کی رسائی، کو بھارتی حلقوں میں تشویش کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
یہ پیش رفت بھارت کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ نئی دہلی ایک عرصے سے خود کو جنوبی ایشیا کی واحد فیصلہ کن طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے مگرآپریشن سندور نے اسکی اس خواہش کو تندورمیں تبدیل کردیا جس میں بھارت کی پالیسیاں، جنگی، فوجی تیاریاں، اربوں ڈالز کا سرمایہ، غرو، زعم اور پاکستان کوزیر کرنے کا ارمان جل گئے ہیں۔ بھارت کی خواہش رہی ہے کہ خطے کے ممالک کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور تزویراتی تعلقات پاکستان کو ایک محدود دائرے میں دھکیل دیں اور اسلام آباد کے لیے عالمی سطح پر سفارتی گنجائش کم سے کم ہوتی چلی جائے۔ مگر مئی 2025 میں اسکی جارحیت کے بعد سے منظرنامہ یکسر تبدیل ہوگیا۔ پاکستان کی عظیم فتح نے دنیا بھر میں اسکا پروفائل اور پذیرائی غیر معمولی بلندیوں تک پہنچا دی ہے۔ اسکی جغرافیائی اہمیت، دفاعی صلاحیت، چین کے ساتھ ساتھ امریکہ اورروس کے ساتھ بھی تعلقات اور مشرق وسطیٰ کی اہم ریاستوں کے ساتھ بڑھتے روابط اسے نظرانداز کرنا تو دور دنیا کا لاڈلا بنارہے ہیں۔ امریکہ ایران جنگ بندی میں اسکا کرداراوران دونوں متحارب ممالک کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ملکوں اور حکومتوں کی طرف سے اسکی پذیرائی اسکی ایک بڑی مثال ہے۔
یہی وہ پس منظر ہے جس میں سعودی عرب کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کرتا ہے۔ سعودی عرب پاکستان کے لیے محض ایک دوست ملک نہیں بلکہ مذہبی، تاریخی، عوامی، اقتصادی اور تزویراتی سطح پر گہرے تعلقات رکھنے والا ملک ہے۔ اگر ان تعلقات میں دفاعی تعاون کا عنصر مزید مضبوط ہوتا ہے تو اس کے اثرات صرف پاکستان اور سعودی عرب تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے کے توازن پر پڑتے ہیں۔ مارکے کے مطابق سعودی عرب پاکستان کو مالی، سیاسی اور جغرافیائی حمایت فراہم کرسکتا ہے۔ یوں دفاعی تعاون ایک وسیع تر سفارتی شراکت داری کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اس صورت حال کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان اب صرف جنوبی ایشیا کے تناظر میں نہیں دیکھا جا رہا۔ امریکی ماہر کے مطابق اسلام آباد مشرق وسطیٰ اور یورپ میں بھی پہلے سے زیادہ اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور واشنگٹن کے ساتھ بھی اس کے باقاعدہ روابط موجود ہیں۔ یہ تبدیلی اس تاثر کو کمزور کرتی ہے کہ پاکستان عالمی سفارت کاری میں ایک محدود یا حاشیائی کردار تک سکڑ چکا ہے۔
اسی بدلتی ہوئی سفارتی تصویر کا ایک واضح مظہر ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے کا دورہ پاکستان بھی ہے۔ ایک دہائی میں ناروے کے کسی وزیر خارجہ کا یہ پہلا دورہ تھا اوراسلام آباد میں پاکستانی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ میڈیا بریفنگ میں ناروے کے وزیر خارجہ نے جموں و کشمیر اور افغانستان سمیت علاقائی مسائل پر ہونے والی گفتگو کا کھلے طور پر ذکر کیا۔ اس ایک جملے نے نئی دہلی کو اس قدر برہم کیا کہ بھارتی وزارت خارجہ کو فوری طور پر اپنا روایتی اور گھسا پٹا ’’اٹوٹ انگ‘‘ کا راگ الاپنا پڑا۔
یہ ردعمل کمتری، شکست، اور بوکھلاہت سمیت اپنے اندربہت کچھ لیے ہوئے ہے۔ بھارت مسلسل عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا رہا ہے کہ جموں و کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے اور کوئی تیسرا ملک اس پر بات کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ لیکن اگر ایک یورپی ملک کا وزیر خارجہ پاکستان کے دورے کے دوران علاقائی مسائل پر گفتگو میں جموں و کشمیر کا ذکر کرتا ہے تو یہ اس بھارتی بیانیے کے لیے ایک واضح سفارتی چیلنج ہے۔ اور دنیا والے بھلا کیوں نہ کشمیرپر بات کریں؟ اگر یہ بھارت کا داخلی معاملہ ہے تو اس پرسلامتی کونسل کی قراردادیں کیوں موجود ہیں جن کے بارے میں حال ہی میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان عزیز حق نے واضع کیا کہ جموں کشمیر کے بارے میں ہمارا موقف تبدیل نہیں ہواکہ ہمارا موقف ادارے کے منشور اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت طے ہوتا ہے۔ پھر بھارت عالمی سطح پر قانونی طور پرآج تک ثابت کیوں نہیں کرپایا کہ جموں و کشمیر متنازعہ علاقہ نہیں ہے؟ پھراسکی 10 لاکھ فوج وہاں کیوں موجود ہے؟ کالے قوانین کا اطلاق، جبری خاموشی اور سیاسی مکانیت کی معدومی کیوں ہے؟ پھر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اورامریکی محکمہ خارجہ نے گذشتہ تین دہائیوں کے دوران مسلسل اپنی رپورٹس میں کیوں گواہی دی کی جموں و کشمیر میں بھارت ریاستی طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے انسانی حقوق کی پامالی کررہا ہے؟ پھر بھارت کشمیرکے تاریخی، زمینی اور قانونی حقائق سے کیوں بھاگتا نظر آتا ہے؟
پاکستانی حکمرانوں کے ساتھ کشمیرکا ذکر کسی غیر رسمی گفتگو یا کسی غیر سرکاری حلقے کی طرف سے نہیں بلکہ مغرب کی ایک بااثر ریاست کے وزیر خارجہ کی سطح پر سامنے آیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ناروے نے کسی فریق کے مؤقف کو مکمل طور پر قبول کرلیا ہےلیکن یہ ضرور ہے کہ بھارت کی یہ خواہش کہ کشمیر کوعالمی سفارتی گفتگو سے مکمل طور پر خارج کردیا جائے، عملاً پوری نہیں ہو رہی۔
اس موقع پر اسحاق ڈار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی سلامتی کی غیر مستحکم صورت حال کی طرف ناروے کے وزیر خارجہ کی توجہ دلانا بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ یوں کشمیر کا مسئلہ صرف ایک پرانا سیاسی تنازع نہیں رہتا بلکہ علاقائی سلامتی، پانی، کشیدگی اور مستقبل کے ممکنہ بحرانوں سے جڑا ہوا معاملہ بن جاتا ہے۔
بھارت کے لیے اصل پریشانی یہی ہے۔ ایک طرف وہ پاکستان کو سفارتی طور پر محدود کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر دوسری طرف پاکستان ایسے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مستحکم کر رہا ہے جو عالمی اورعلاقائی سیاست میں اہم وزن رکھتے ہیں۔ ایک طرف نئی دہلی کشمیر کو عالمی سطح پر زیر بحث آنے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے تو دوسری طرف ناروے جیسا یورپی ملک اسلام آباد میں علاقائی مسائل کے ضمن میں کشمیر کا نام لے رہا ہے۔
بھارت کے لیے یہ صورت حال ایک واضح پیغام رکھتی ہے۔ دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق بیانیہ سنانا اور دنیا کو اس بیانیے پر قائل کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ کشمیر کو اندرونی معاملہ قرار دینے سے اس تنازع کی تاریخی، سیاسی اور انسانی حقیقت ختم نہیں ہوجاتی۔ اسی طرح پاکستان کو تنہا کرنے کی خواہش بھی محض خواہش ہی رہ سکتی ہے اگر خطے کی دوسری طاقتیں اپنے قومی مفادات کی بنیاد پر اسلام آباد کے ساتھ تعلقات کو آگے بڑھاتی رہیں۔
آج کا جنوبی ایشیا ایک نئے تزویراتی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ پاکستان کی اہمیت صرف اس کی جغرافیائی حیثیت میں نہیں بلکہ اس کی دفاعی صلاحیت، علاقائی روابط اور مختلف طاقتوں کے ساتھ بیک وقت سفارتی تعلقات میں بھی ہے۔ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون اور ناروے کی جانب سے کشمیر کا ذکر، دونوں واقعات اسی بڑی تبدیلی کے مختلف پہلو ہیں۔
یوں بھارتی حکمت عملی کے سامنے ایک بنیادی سوال کھڑا ہوچکا ہے کہ اگر پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں اسے مزید نئے شراکت داروں، نئے سفارتی مواقع اور نئے تزویراتی روابط کی طرف لے جائیں تو کیا یہ حکمت عملی اپنے مقصد کے برعکس نتائج پیدا نہیں کر رہی؟ شاید یہی وجہ ہے کہ دہلی کے لیے پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمی اور کشمیر کا عالمی سطح پر دوبارہ زیر بحث آنا بیک وقت تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ اور شائد اسی حقیقت کو بھانپتے ہوئے آر آیس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت اور جنرل سیکریٹری نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی استواری پر زور دیا۔
وقت کا فیصلہ واضح ہے کہ پاکستان کو نظرانداز کرنے کی کوشش کے باوجود اسلام آباد خطے کی سیاست میں ایک اہم فریق ہے اور کشمیر کو خاموش کرانے کی کوشش کے باوجود یہ تنازع عالمی سفارتی گفتگو سے مکمل طور پر خارج نہیں کیا جاسکا۔ بدلتے ہوئے علاقائی توازن میں یہی پاکستان کی سب سے بڑی سفارتی گنجائش اور بھارت کے لیے سب سے بڑا تزویراتی چیلنج ہے۔






