بھارتی حکومت نے مارچ سے جولائی تک سوشل میڈیا کمپنیوں کو 1.95 لاکھ بلاکنگ احکامات جاری کئے
نئی دہلی : بھارت میں بی جے پی کی ہندوتواحکومت نے رواں سال مارچ سے جولائی تک سوشل میڈیا کمپنیوں کو 1.95 لاکھ بلاکنگ احکامات جاری کئے ہیں۔
کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اوسطاً ہر 68 سیکنڈ میں ایک بلاکنگ آرڈرجاری کیاگیا ہے یعنی ہر روز تقریباً 1,275 احکامات بھیجے گئے ہیں۔ دی انڈین ایکسپریس کے مطابق رواں سال مارچ سے جولائی کے درمیان انسٹاگرام، فیس بک اور یوٹیوب کو آن لائن مواد کو بلاک کرنے کے لیے حکومت اور اس کی ایجنسیوں کی جانب سے بھیجے گئے احکامات میں نمایاں اضافہ ہواہے۔ ان احکامات کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹس، ویڈیوز اور اکاو¿نٹس کو بلاک کرنے کی ہدایات دی گئیں۔ واضح رہے کہ اسی عرصے میں دہلی کے جنتر منتر پر پیپر لیک اور امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف طلباءکا احتجاج بھی ہوا۔ یہ احتجاج جون کے اوائل میں شروع ہوا تھا اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد 25 جولائی کو ختم ہوا۔ آر ٹی آئی ریکارڈ کے مطابق اکتوبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان 19 آن لائن پلیٹ فارمز کو مجموعی طور پر 2,312 بلاکنگ احکامات بھیجے گئے تھے، یعنی اوسطاً ہر روز تقریباً چھ احکامات۔ایک سینئر سرکاری افسر نے بتایا کہ احتجاج کے دوران خصوصی طور پر انسٹاگرام پر تحریک کے زور پکڑنے پر ان بلاکنگ احکامات کاکافی بڑا حصہ جاری کیا گیا تھا۔ انسٹاگرام کو حکومت کی جانب سے سب سے زیادہ احکامات موصول ہوئے۔ مارچ سے جولائی کے درمیان اسے تقریباً ایک لاکھ بلاکنگ احکامات بھیجے گئے جو مجموعی احکامات کے نصف سے کچھ زیادہ ہیں۔فیس بک کو تقریباً 80,000 جبکہ یوٹیوب کو تقریباً 15,000 احکامات موصول ہوئے۔ اس طرح میٹا کی ملکیت والے فیس بک اور انسٹاگرام کو تینوں پلیٹ فارمز کو بھیجے گئے مجموعی احکامات میں سے تقریباً 90 فیصد موصول ہوئے۔ یادرہے کہ یہ اعداد و شمار بلاکنگ احکامات کی تعداد بتاتے ہیں، نہ کہ بلاک کیے گئے پوسٹس یا اکاو¿نٹس کی تعداد۔ ایک آرڈر میں سینکڑوں مختلف پوسٹس یا اکاو¿نٹس کو ہٹانے کی ہدایات شامل ہو سکتی ہیں۔ان میں سے زیادہ تر احکامات وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کیے گئے ہیں۔








