بھارتی حکام منی پور میں نسلی برادریوں کے درمیان تشدد فوری طورپرروکیں، ہیومن رائٹس واچ
نیویارک: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ”ہیومن رائٹس واچ “نے بھارتی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ تشدد سے متاثرہ ریاست منی پور میں نسلی برادریوں کے درمیان نئے سرے سے ہونے والے تشدد کو فوری طور پر روکیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ویب سائٹ پرجاری ایک بیان میں کہا کہ رواں برس اگست کے اواخر میں ریاست کے پہاڑی اضلاع میں ناگا اور کوکی زو قبائلی برادریوں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم سات افراد مارے گئے، جس سے فروری کے مہینے سے اب تک دونوں برادریوں کے درمیان تازہ ترین تشدد میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 34 ہو گئی۔ناگا اور کوکی-زو برادریوں کے درمیان حالیہ جھڑپوں نے نسلی تشدد کو بڑھایا ہے ۔ میتی (ہندو) اور کوکی(عیسائی) قبائل کے درمیان مئی 2023 سے سخت کشیدگی چلی آرہی ہے اور اب تک 260 سے زیادہ اموات ہوئی ہیں اور 60ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔
ایچ آر ڈبلیو نے کہا کہ ناگا اور کوکی زو دونوں کمیونٹیز کے مسلح عسکریت پسند گروپوں نے فروری سے دیہاتوں میں ایک دوسرے کے گھروں کو جلایا، لوگوں کو یرغمال بنالیا، شاہراہیں بند کیں اور گولیاں چلائیں۔بیان میں کہا گیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیرقیادت ریاستی حکومت، جو فروری میں امن اور مفاہمت کے وعدے پر اقتدار میں آئی تھی، نے تشدد کو ختم کرنے اور دونوں برادریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ناکافی اقدامات کیے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کی ایشیا ڈائریکٹر ایلین پیئرسن نے کہا کہ منی پور حکومت ریاست میں بڑھتے ہوئے نسلی تشدد کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ حکام کو ہلاکتوں کے خاتمے، کمیونٹیز کے تحفظ اور بدسلوکی کے لیے انصاف کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ حکام نے ابھی تک کانگ پوکپی ضلع میں سامان کی نقل و حمل دوبارہ شروع نہیں کی ہے ، مسلح ناگا گروپ نے ہائی وے کو قبضے میں لے رکھا ہے۔ ناکہ بندی کی وجہ سے کھانے پینے کی اشیاءاور گیس سلنڈر کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا، حکام کو چاہیے کہ وہ گاڑیوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو بحال اور مسلح گروپوںکی طرف قائم کی گئی چوکیوں کو ختم کرے۔
ہیومن رائٹس واچ نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ عسکریت پسند گروپوں کو غیر مسلح کرنے کا عمل جاری رکھیں، زیادتیوں کے متاثرین اور بچ جانے والوں کے لیے فوری معاوضہ کو یقینی بنائیں اور غیر جانبدارانہ انصاف اور احتساب کا طریقہ کار قائم کریں۔






