بھارت

اسلاموفوبیا بھارتی فلمی صنعت میں بھی سرایت کر گیا ہے: بالی ووڈ فلمساز

تگمانشو دھولیا کا مسلم مخالف تعصب اور سیلف سنسرشپ پر اظہارِ تشویش

نئی دہلی: بالی ووڈ کے فلمساز تگمانشو دھولیا نے اعتراف کیا ہے کہ بھارتی معاشرے میں بڑھتا ہوا اسلاموفوبیا ملک کی بااثر فلمی صنعت میں بھی سرایت کر چکاہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق معروف ہدایت کار، اسکرین رائٹر اور اداکار تگمانشو دھولیا نے یہ بات گزشتہ ہفتے نئی دہلی میں ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا کے راجندر ماتھور میموریل لیکچر سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں بھارتی میڈیا اور فلمی صنعت کی صورتحال کا جائزہ پیش کیا جہاں سنسرشپ، سیاسی اثر و رسوخ اور تخلیقی آزادی کےفقدان کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔جب سینئر صحافی پرنجوئے گوہا ٹھاکرتا نے ان سے پوچھا کہ آیا اسلاموفوبیا ممبئی کی فلمی صنعت میں داخل ہو چکا ہے تو دھولیا نے کہا کہ معاشرے میں بڑے پیمانے پر پھیلنے والے تعصبات سے فلمی صنعت بھی خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتی۔دھولیا نے کہاکہ اسلاموفوبیا پورے معاشرے میں پھیل چکا ہے؛ فلمی صنعت ماونٹ ایورسٹ پر کوئی الگ تھلگ جگہ نہیں ہے۔بھارت میں بڑھتی ہوئی سیاسی اور سماجی تقسیم کے دوران بالی ووڈ میں مسلمانوں کی عکاسی کے حوالے سے تنقید بھی سامنے آتی رہی ہے۔حالیہ برسوں میں کئی کامیاب فلموں کو فلمی ناقدین، دانشوروں اور مسلمان تنظیموں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، کیونکہ ان میں مسلمانوں کو دہشت گردوں، حملہ آوروں یا آبادیاتی خطرات کے طور پر پیش کیا گیا جبکہ ہندوتوا کے بیانیے کو تاریخی حقیقت کے طور پر پیش کیا گیا۔ بعض سیاسی نوعیت کی فلموں کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیرِ قیادت ریاستی حکومتوں کی جانب سے عوامی حمایت اور ٹیکس میں رعایتیں بھی دی گئیں۔دھولیا سے جب پوچھا گیا کہ آیا پولیس شکایات اور قانونی کارروائی کے خوف سے اب فلمساز اس بات کو مدنظر رکھتے ہیں کہ وہ کیا لکھیں، تو انہوں نے سیلف سنسرشپ اختیار کرنے کا اعتراف کیا۔انہوں نے کہاکہ کوئی بھی مکالمہ لکھنے سے پہلے دو بار سوچنا پڑتا ہے ۔دھولیا نے بالی ووڈ میں بڑھتی ہوئی کارپوریٹ اجارہ داری پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی مفادات نے کہانی بیان کرنے کے عمل کو کمزور کر دیا ہے جس کے نتیجے میں تخلیقی آزادی مزید محدود ہو رہی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button