بھارتی حکومت کالے قوانین اور عدلیہ کو کشمیریوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہے: حریت کانفرنس
سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے کالے قوانین اور عدلیہ کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ حریت قیادت سمیت کشمیری قیدیوں کو مقدمات کی منصفانہ سماعت کے حق سے محروم کرنے سے بھارتی عدلیہ کی غیر جانب داری پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کے لیے کشمیری عوام کی جدوجہد کو دبانے میں ناکامی کے بعد بھارتی پولیس اور خفیہ ایجنسیاں مقبوضہ علاقے میں گھروں پر چھاپوں، نوجوانوں کو ہراساں اور گرفتار کرنے جیسے اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ ترجمان نے کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے حکمران طبقے کی ان سازشوں سے ہوشیار رہیں جن کا مقصد کشمیری عوام، ان کے خیرخواہوں اور حریت قیادت کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے۔ انہوںنے تمام تر مشکلات کے باوجود تنازعہ کشمیر کے حل تک جدوجہدِ آزادی جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔









