برطانیہ میں مقیم شمال مشرقی بھارتی برادری کا منی پورکے موسیقار کا دلی میں بہیمانہ قتل پر شدید اظہار برہمی
واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ
لندن: برطانیہ میں مقیم شمال مشرقی بھارتی برادری کی نمائندہ تنظیم ( این ای آئی یو کے )نے ریاست منی پور سے تعلق رکھنے والے معروف موسیقار چونگ تھام وکرم سنگھ کے دارلحکومت نئی دہلی میں بہیمانہ قتل پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے دہلی پولیس اور متعلقہ حکام سے اس معاملے کی فوری، غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق شمال مشرقی بھارتی گروپ کا کہنا ہے کہ اس وحشیانہ واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو جلد سے جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے۔54 سالہ م موسیقار چونگ تھام وکرم سنگھ نئی دہلی کے علاقے آشرم کیلوکاری گاںمیں رہائش پذیر تھے۔ رواں ماہ7 ستمبر کی رات کو ان کے گھر کے باہر کچھ افراد شور شرابا کر رہے تھے اور شراب نوشی میں مصروف تھے، وکرم سنگھ نے گھر سے باہر آکر اس ہلڑ بازی پر اعتراض کیا تو ان افراد نے ان پر دھاوا بول دیا اور ان کا پیچھا کیا اور عمارت کی سیڑھیوں پر ان پر وحشیانہ تشدد کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے اور ہسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
”این ای آئی یو ”نے اپنے بیان میں کہا کہ وکرم سنگھ کی المناک موت نے ایک بار پھر بھارت کے بڑے شہروں، خاص طور پر نئی دہلی میں شمال مشرقی ریاستوں کے شہریوں کو درپیش سیکورٹی خطرات، ہراساں کیے جانے اور نسلی امتیاز کے دیرینہ خدشات کو تازہ کر دیا ہے۔ تنظیم نے ریاست اتراکھنڈ کے شہر دہرادون میں تریپورہ سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ طالب علم انجیل چکما پر ہونے والے حالیہ حملے اور ہلاکت کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شمال مشرقی برادری کو بھارت کے دیگر حصوں میں منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ دہلی پولیس کسی بھی قسم کے دبا ئو کے بغیر وکرم سنگھ کے قتل کی شفاف تحقیقات کرے تاکہ مجرموں کو سخت ترین سزا مل سکے۔ دہلی پولیس کا واقعے کے حوالے سے کہنا ہے کہ اس نے اب تک 8 ملزمان کو حراست میں لیا ہے جن میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔








