سرینگر میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کا احتجاج
ملازمتوں کو مستقل کرنے اور اجرتوں میں اضافے کا مطالبہ
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں مختلف سرکاری محکموں میں عارضی اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین نے آج سرینگر میں احتجاج کرتے ہوئے اپنی ملازمتوں کو مستقل کرنے اور اجرتوں میں اضافے کا مطالبہ کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق احتجاج کا اہتمام جموں و کشمیر ڈیلی ویجرز فورم نے کیا تھا جس کی قیادت فورم کے صدر سجاد احمد پرے نے کی۔احتجاج کرنے والے ملازمین نے بتایا کہ ان کی ملازمتوں کو مستقل کرنے اور بہتر اجرت کے مطالبات کئی برسوں سے حل طلب ہیں، انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ ان کی شکایات کے ازالے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔
احتجاجی مظاہرہ اس وقت کیا گیا جب مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں عارضی اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین سے متعلق امور پر بحث جاری تھی۔ نیشنل کانفرنس کی زیر قیادت حکومت نے ایوان کو بتایا کہ وہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں سمیت عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کے لیے یکساں فریم ورک وضع کرنے پر کام کر رہی ہے۔
حکومت نے بتایا کہ مارچ 2025 میں قائم کی گئی ایک کمیٹی ملازمین کومستقل کرنے کے عمل سے متعلق انسانی، قانونی اور مالی پہلوو¿ں کا جائزہ لے رہی ہے۔ملازمین نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس عمل کو تیز کرے اور اجرتوں میں اضافے اور ملازمتوں کو مستقل کرنے سے متعلق ان کے طویل عرصے سے زیر التوا مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کرے۔
یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین طویل عرصے سے زیر التوااپنے مطالبات کے لیے بارہا احتجاج کر چکے ہیں، تاہم ان کی شکایات کے حوالے سے حکام کی مسلسل بے اعتنائی نے ان میں مایوسی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ حکام کی بے اعتنائی سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اچھی حکمرانی اور مو¿ثر انتظامیہ سے متعلق بھارتی حکومت کے دعووں پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ یہ صورتحال پانی، بجلی اور مناسب سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے تک رسائی سمیت کشمیریوں کو بنیادی سہولیات میں درپیش مشکلات کی عکاسی کرتی ہے۔





