بھارت : پی ایف آئی کے خلاف کریک ڈاون کے چارسال بعدبھی مسلمان رہنما بدستور نظربند
نئی دہلی :بھارت میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے خلاف کریک ڈاون کے چارسال بعد بھی اس کے سینئر رہنما بدستورجیلوں میں نظربند ہیں جبکہ انسانی حقوق کے مبصرین اور ان کے حامیوں نے ان کے خلاف مقدمات کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق نظربند رہنماﺅں میں پی ایف آئی کے سابق سربراہ اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے بانی صدر ای ابوبکر، معروف صحافی اور نیشنل کنفیڈریشن آف ہیومن رائٹس آرگنائزیشنز (این سی ایچ آر او) کے جنرل سیکرٹری پروفیسر پی کویا، پی ایف آئی کے سابق چیئرمین او ایم اے سلام اور سابق وائس چیئرمین ای ایم عبدالرحمان شامل ہیں۔
بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے”این آئی اے“ نے 22 ستمبر 2022 کو پی ایف آئی کے خلاف اپنی پہلی ملک گیر کارروائی کے دوران غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون”یو اے پی اے“ کے تحت 42 مسلمانوں کو گرفتار کیا تھا۔ چھ روز بعد 27 ستمبر کو بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے پی ایف آئی اور اس سے وابستہ متعدد تنظیموں پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں ”غیر قانونی انجمنیں“ قرار دیا۔ پابندی میں شامل تنظیموں میں کیمپس فرنٹ آف انڈیا، ریہیب انڈیا فاو¿نڈیشن، آل انڈیا ائمہ کونسل، این سی ایچ آر او، نیشنل ویمنز فرنٹ، جونیئر فرنٹ، ایمپاور انڈیا فاو¿نڈیشن اور ریہیب فاو¿نڈیشن کیرالہ شامل تھیں۔ اس کے بعد کئی مقامی اور ریاستی سطح کے رہنماو¿ں کو ضمانت مل چکی ہے، جبکہ دیگرافرادجیل میں چار سال مکمل کر چکے ہیں جن میںعمررسیدہ افراد بھی شامل ہیں، ۔
جولائی 2026 میں دہلی میں قائم خصوصی این آئی اے عدالت نے پی ایف آئی اور اس کے 20 عہدیداروں کے خلاف باضابطہ طور پر الزامات عائد کر دیے۔ خصوصی این آئی اے جج پرشانت شرما نے ملزمان کے خلاف مقدمے کی کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ مقدمہ آگے بڑھانے کے لیے کافی مواد موجود ہے۔ الزامات میں مجرمانہ سازش، بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنا، ایک عسکری تنظیم کے لیے فنڈز جمع کرنا اور عسکری سرگرمیوں کے لیے افراد کو بھرتی کرنا شامل ہیں۔ تمام ملزمان نے الزامات سے انکار کرتے ہوئے مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔
گرفتاریوں کو چارسال مکمل ہونے کے موقع پر ای ابوبکر کے بیٹے امل تحسین نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں چار برسوں کی عدالتی پیشیوں، دعاو¿ں اور خاندانی زندگی کے اہم مواقع کا ذکر کیا جو اپنے عزیزوں کی غیر موجودگی میں گزرے۔ انہوں نے لکھاکہ ان چار برسوں کی داستان صرف ہمارے خاندان کی داستان نہیں ہے۔تحسین نے کہا کہ عمر بڑھنے اور صحت کے مسائل کے باوجود بعض نظربند رہنماو¿ں کو عدالت میں پیش ہوتے دیکھنا تکلیف دہ تھا، تاہم ان کے خاندان اب بھی ان کی واپسی کی امید رکھتے ہیں اور انہوں نے قانونی عمل پر اپنا اعتماد نہیں کھویا۔
گزشتہ ماہ مقبوضہ جموں و کشمیر سے بھارتی پارلیمنٹ کے آزاد رکن انجینئر رشیدنے جو اس وقت تہاڑ جیل میں نظربند ہیں، اپنے ساتھی ارکان پارلیمنٹ سے ای ابوبکر کی بگڑتی صحت اور بڑھتی عمر کا حوالہ دیتے ہوئے اپیل کی کہ وہ انکی غیر مشروط رہائی کے لیے آواز اٹھائیں۔انجینئر رشید نے 21 اگست کو لکھے گئے ایک خط میں 75 سالہ ابوبکر کو متعدد دائمی بیماریوں میں مبتلا قرار دیا جن میں پارکنسنز کی بیماری بھی شامل ہے ، انہوں نے کہا کہ وہ کینسر کی سرجری بھی کروا چکے ہیں اورشدید کمزوری کا شکار ہیں اور انہیں کھانے، بولنے، سننے اور لکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔انجینئررشید نے کہا کہ سابق پی ایف آئی چیئرمین کی حالت نے انہیں اور دیگر قیدیوں کو84 سالہ جیسوٹ پادری اور قبائلی حقوق کے کارکن فادر اسٹین سوامی کی یاد دلا دی جو جولائی 2021 میں نظربندی کے دوران انتقال کر گئے تھے۔
مسلمان تنظیموں، انسانی حقوق کے گروپوں اور پی ایف آئی کے نظربند رہنماو¿ں کے حامیوں نے بھارتی حکومت کی طرف سے تنظیم پر پابندی اور اس کے ارکان کے خلاف مقدمات قائم کرنے پر تنقید کرتے ہوئے انہیں سیاسی محرکات پر مبنی اور نئی دہلی کی مسلم دشمن پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت عمر رسیدہ اور علیل رہنماﺅں کی طویل نظربندی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقدمات کے فیصلے سے قبل طویل نظربندی کے ان افراد اور ان کے اہلخانہ کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔







