جنتر منتر: چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے حوالے سے احتجاج، پولیس نے کئی رہنما گرفتار کر لیے
نئی دہلی : نئی دلی کے جنتر منتر پر بھارتی چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کی گرفتاری اور استعفے کے مطالبے کے دوران پولیس نے آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) کی صدر نیہا بورا اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسٹس لینسٹ (سی پی آئی ایم ایل) کے جنرل سیکرٹری دیپانکر بھٹاچاریہ سمیت کئی اہم رہنماوں اور مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق پولیس حکام نے گرفتاریوں کی یہ وجہ بتائی ہے کہ مظاہرین نے اس احتجاج کے لیے پیشگی اجازت حاصل نہیں کی تھی۔
ملک گیر احتجاج الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اندرونی اختلافات اور فیصلوں کے خلاف کیا جا رہا ہے میڈیا رپورٹس میں حال ہی میں یہ انکشاف ہوا کہ تین رکنی الیکشن کمیشن کے دو ارکان سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی مہم (ایس آئی آر) پر سنگین اعتراضات اور تحفظات درج کرائے تھے۔
اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے ان اعتراضات کو نظرانداز کرتے ہوئے من مانی کی اور ووٹر فہرستوںمیں ردوبدل کیا، جس سے کروڑوں رائے دھندگان متاثر ہوئے ۔ جنتر منتر پر ہونے والے اس احتجاج میں طلبہ تنظیموں کے ساتھ ساتھ مختلف سیاسی اور سماجی شخصیات شریک تھیں، جن میں سے متعدد کو حراست میں لیا گیا ہے ۔
مظاہرے میں نیہا بورا ،دیپانکر بھٹاچاریہ کے علاوہ سماجی کارکن یوگیندر یادو، آر جے ڈی کے رکنِ پارلیمنٹ منوج جھا، معروف وکیل پرشانت بھوشن، اور انجلی بھاردواج سمیت کئی دیگر شخصیات نے بھی مظاہرے میں شرکت کی۔
کانگریس پارٹی نے بھی پورے ملک میں ریاستی الیکشن دفاتر کے سامنے شدید احتجاجی مارچ شروع کر رکھے ہیں اور وہ بھی چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
دوسری جانب جوانوں کی تحریک ‘کاکروچ جنتا پارٹی“ نے بھی چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے گزشتہ روز نئی دلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کو سب سے بڑا ملک مخالف قرار دیتے ہوئے ان کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچیف الیکشن کمشنر نے 48 گھنٹوں کے اندر استعفیٰ نہ دیا تو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔انہوں نے کہا ہے کہ اس حوالے سے جنتر منتر پر جلد احتجاج کا پارٹ 2منعقد کیا جائے گا۔ دیپکے نے مزید کہا کہ گیانیش کمار ملک کی جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں کیونکہ جمہوریت میں عوام حکومت کا انتخاب کرتے ہیں لیکن جب سے گیانیش کمار چیف الیکشن کمشنر بنے ہیں مودی حکومت طے کر رہی ہے کہ "کون ووٹ دے گا اورکون نہیں دے گا”۔






