100سے زائد سابق سول سرونٹس کا الیکشن کمیشن کو خط، ایس آئی آر عمل کو فوری ختم کرنے کا مطالبہ
نئی دلی: 100سے زائد سابقہ سول سرونٹس پر مشتمل ‘کونسٹی ٹیوشنل کنڈکٹ گروپ’ (سی سی جی) نے الیکشن کمیشن کو ایک کھلا خط لکھ کر ووٹر فہرستوں کی متنازعہ خصوصی جانچ پڑتال (ایس آئی آر) کے عمل کو فوری طور پر ختم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سابق بیورو کریٹس کا موقف ہے کہ اس مشق سے وسیع پیمانے پر رائے دہندگان کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں اور یہ عمل ملک کے کثیر الثقافتی اور جمہوری ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
خط میں تشویش ظاہر کی گئی ہے کہ اس مہم کے تحت بڑے پیمانے پر اور من مانے طریقے سے رائے دھندگان کے نام حذف کیے گئے ہیں۔ فہرستوں سے کروڑوں نام نکالے جا چکے ہیں۔ سابق افسران نے لکھا کہ کہ ووٹروں پر اپنی شہریت ثابت کرنے کا غیر آئینی بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جو الیکشن کمیشن کے آئینی دائرہ اختیار سے باہر ہے۔خط میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے ابھی تک عوام کو یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ایس آئی آر کا فیصلہ کمیشن نے خود لیا تھا یا حکومت کے ایما پر کیا گیا۔
ایس آئی آر عمل کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات کا انکشاف بھی حال میں سامنے آیا ہے ۔ میڈیا رپورٹس میں یہ انکشاف ہوا کہ خود الیکشن کمیشن کے اندر اس معاملے پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔تین رکنی کمیشن کے دو ارکان سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران ووٹر لسٹوں کی ڈیجیٹلائزیشن اور ایس آئی آر کے فیصلوں پر کم از کم 14 مرتبہ اعتراضات ریکارڈ کرائے ہیں۔دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر نے ان اعتراضات کو ” آراءکا تبادلہ” قرار دے کر مسترد کیا ہے۔
سابق سول سرونٹس نے الیکشن کمیشن پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی تاریخی غیر جانبداری، وقار اور ساکھ کو بچانے کے لیے اس متنازعہ مشق کو فوری طور پر منسوخ کرے اور ووٹر رجسٹریشن کے دیرینہ اور مروجہ قوانین پر واپس لوٹے۔
دریںاثنا سابق سول سرونٹس کے علاوہ ملک کے 2ہزار سے زائد ممتاز شہریوں بشمول وکلاء، اساتذہ اور سماجی کارکنوں نے بھارتی چیف جسٹس کو خط لکھ کر ایس آئی آر پر فوری روک لگانے اور الیکشن کمیشن کے کام کاج کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر حزب اختلاف کی جماعتوں کی طر ف سے بھی ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ نوجوانوں کی تنظیم ”کاکروچ جنتا پارٹی “ نے بھی الیکشن کمیشن سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے نئی دلی کے جنتر منتر پر اس حوالے سے احتجاج پارٹ2کی دھمکی دی ہے۔







