مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں و کشمیر:یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کا اسمبلی کا گھیراو کرنے کا اعلان

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین نے تقریباً 61 ہزارعاضی ملازمین کو مستقل کرنے کے دیرینہ مطالبے کے حق میں کل (28 ستمبرکو) قانون سازاسمبلی کا گھیراو کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈیلی ویجرز فورم کے صدر سجاد احمد پرے نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ہزاروں ملازمین دو دہائیوں سے زائد عرصے سے مختلف محکموں میں خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم وہ اب بھی مستقل کرنے کے لیے ٹھوس اور مقررہ مدت پر مبنی پالیسی کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے 11 مارچ 2025 کو چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی تھی، جسے چھ ماہ کے اندر مستقل کرنے کے لیے سفارشات اور لائحہ عمل پیش کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
سجادپرے نے یکم اپریل 2026 کو قانون ساز اسمبلی میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے کلگام کے رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی کے سوال کے جواب میں دی گئی یقین دہانی کا بھی حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ موجودہ مالی سال کے دوران مرحلہ وار طریقے سے مستقل کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا۔ لیکن کافی وقت گزرنے کے باوجود کمیٹی کی رپورٹ یا ملازمین کو مستقل کرنے کے لیے کسی ٹھوس لائحہ عمل کے حوالے سے کوئی وضاحت موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں حکومت کے حالیہ جواب سے ہزاروں متاثرہ ملازمین اور ان کے خاندان مایوس ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واضح طریقہ کار کے بغیر بار بار دی جانے والی یقین دہانیوں نے غیر یقینی صورتحال کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
سجادپرے نے کہا کہ یہ مسئلہ محض روزگار کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے وسیع تر انسانی اور سماجی پہلو بھی ہیں، کیونکہ ہزاروں خاندان ان ملازمین پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں، ٹریڈ یونینوں، مذہبی رہنماو¿ں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ 28 ستمبر کے احتجاج میں شرکت کریں اور ملازمین اور ان کے خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں۔انہوں نے کہاکہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین نے اپنی زندگی کے انتہائی اہم اور قیمتی سال عوام اور حکومت کی خدمت میں گزارے ہیں۔ ان کا طویل عرصے سے زیر التوا مطالبہ مقررہ مدت کے اندر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حل کیے جانے کا مستحق ہے۔انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مفتی اعظم اور مذہبی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ اس مسئلے کو اٹھائیں اور اس کے انسانی پہلو کو اجاگر کریں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button